خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 407 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 407

خطبات طاہر جلد ۲ 407 خطبه جمعه ۵ را گست ۱۹۸۳ء مشاہدہ نے ہی غلطی کی تھی۔سب سے پہلی بات ہمیں یہ نظر آتی ہے کہ نیکی نبوت کے آنے سے داخل ہوتی ہے اور بظاہر اتنی کمزور حالت میں کہ اگر بدی میں کچھ بھی وزن ہوتا تو ناممکن تھا کہ نیکی راہ پا جاتی یعنی غلبہ برقرار رکھنے کے تمام محرکات اور سامان بدی کے پاس ہوتے ہیں اور وہ معاشرہ کے انگ انگ میں رچ بس جاتی ہے جیسا کہ قرآن کریم نے نقشہ کھینچا: صلى الله ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم :٤٢) کہ دیکھو! حضرت محمد مصطفے ملے تو ایسے وقت تشریف لائے کہ گویا نیکی کے لیے پاؤں رکھنے کی بھی جگہ نہ تھی، خشکی میں نہ تری میں۔بعض دفعہ ایک گندا تنا پھیل جاتا ہے کہ در حقیقت پاؤں رکھنے کی بھی گنجائش نہیں رہتی تو قرآن کریم یہ فرماتا ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ علیہ اس وقت مبعوث ہوئے جبکہ نیکی کے لیے ایک چپہ کی بھی گنجائش نہیں تھی۔ان حالات میں نیکی نے پھیلنا شروع کیا اور اس کی زمینیں بڑھنے لگیں اور بدی سمٹنے لگ گئی جبکہ وہ تمام ذرائع اور محرکات جو عرف عام غلبہ کے ذرائع کہلاتے ہیں اور جن کے نتیجہ میں تسلط ہو سکتا ہے وہ سارے نہ صرف بدی کو حاصل تھے بلکہ اس نے نیکی کو مکمل طور پر باہر نکال دیا تھا ، ایسی کمزور حالت میں نیکی کا نفوذ ہوا کہ اس کے پہنچنے کی بظاہر کوئی وجہ ب تھی اور یہ غلبہ کسی فوج ، گروہ یا کسی جبر کی تعلیم سے نہیں ہوا۔الله اگر آپ ان واقعات اور شواہد کو جو حضرت محمد مصطفے ﷺ کے زمانہ میں بدی کی تائید صلى الله کر رہے تھے ایک کمپیوٹر میں ڈال دیں اور دوسری طرف حضرت محمد مصطفے ﷺ کا پیغام اور طرز عمل ، اور یہ بھی ساتھ لکھ دیں کہ یہ وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ ہر دلعزیز تھا مگر اس دعوئی کے بعد کہ میں نیکی کی تعلیم دوں گا اور نیکی کے زور سے بدی ختم کر دوں گا، قوم میں سب سے زیادہ مغضوب ہوگیا ، اس کے اپنے عزیزوں نے اسے چھوڑ دیا اور رشتہ داروں نے اس سے منہ موڑ لیا ، اس کے تمام ساتھی اور مداح ، سب پیچھے ہٹ گئے اور ساری دنیا میں بدی کامل طور پر غالب آگئی، کیا نتیجہ نکلنا چاہئے ؟ ہر بار کمپیوٹر یہ جواب دے گا کہ چونکہ نیکی شکست کھا چکی ہے اس لئے نیکی کے غالب آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا لیکن اس کے برعکس کیا واقعہ ہوتا ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ : أَفَلَا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا أَفَهُمُ الْغُلِبُونَ (الاعباء : ۴۵ )