خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 408
خطبات طاہر جلد ۲ 408 خطبه جمعه ۵ را گست ۱۹۸۳ء یہ بیوقوف جو اپنے غلبہ پر اترا ر ہے ہیں اور بلند بانگ دعاوی کر رہے ہیں کہ ہماری طاقت کے مقابل پر اس نیکی کی کمزور حالت پنپ کس طرح سکتی ہے؟ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ کیوں نہیں دیکھتے کہ ہم ان کی زمین تنگ کرتے چلے جارہے ہیں اور محمد مصطفے ﷺ کی زمین کو بڑھاتے چلے جارہے ہیں۔دن بدن ان کی زمینوں کے کنارے کٹ کٹ کر محمد رسول اللہ ﷺ کی زمین میں داخل ہورہے ہیں۔اَفَهُمُ الْغَلِبُونَ وہ کیسے غالب آجائیں گے جن کی زمینیں تنگ ہو رہی ہیں۔پس نیکی اس وقت داخل ہوتی ہے جبکہ سارے Odds یعنی انگریزی محاورہ کے مطابق تمام وہ محرکات جو مقابلہ میں فیصلہ کن ہوا کرتے ہیں وہ بدی کے حق میں ہوتے ہیں۔قرآنی بیان کے مطابق ایک ہی چیز ہے جو نیکی کے حق میں ہوتی ہے اور وہ یہ اٹل اور ازلی ابدی قانون ہے کہ اِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيَّاتِ کہ نیکیاں ایک مثبت طاقت ہیں منفی اثرات نہیں اور جب یہ مثبت طاقتیں داخل ہونا شروع ہوتی ہیں تو منفی طاقتیں لازماً وہاں سے ہٹنے لگ جاتی ہیں۔پھر جب وہ قومیں جو اپنی مثبت طاقتوں کی حفاظت نہیں کرتیں وہ پہلے نیکیوں کو چھوڑ نا شروع کرتی ہیں بعد میں بدیاں ان میں راہ پا جاتی ہیں۔جب تک نیکیاں موجود ہوں بدی کی مجال نہیں کہ وہ راہ پا جائیں۔ایک تو یہ نقطہ نگاہ ہے جب آپ اس کا تجزیہ کریں تو وہ فلسفیانہ خیال باطل نظر آتا ہے کہ ہمیشہ بدی غالب آئی نیکی غالب نہیں آئی۔دوسرا یہ کہ جب آپ تاریخ انسانی کا مطالعہ ایک گراف کی شکل میں کریں اس صورت میں کہ ہر تہذیب کے بعد اگلی تہذیب جب آئی تو اس کا کیا مقام تھا ، اس کے بعد اگلی تہذیب آئی تو اس کا کیا مقام تھا؟ یہ دیکھ کر آپ حیران رہ جائیں گے کہ بظا ہر نیکیاں شکست کھا کر چلی گئیں ہیں لیکن اس کے باوجود ہر منزل پر کچھ باقی رہنے والی ایسی صلاحیتیں چھوڑ گئیں ہیں جنھوں نے انسان کے اخلاقی معیار کو بلند تر کیا ہے نیچے نہیں گرایا۔پتھر کے زمانہ کا انسان یا وہ جس نے بعد میں اس دنیا میں رہنا سہنا سیکھا اس وقت اس کی بہیمانہ حالتیں اتنی خطر ناک تھیں کہ اس زمانہ کے مذہبی اور تہذیبی تصورات آج کل کے مقابل پر بہت زیادہ بہیمانہ ہیں۔جب نبیوں نے انہیں تہذیب سکھائی تو نبیوں کے بعد رفتہ رفتہ وہ پھر بدیوں کی طرف مائل ہوئے لیکن پہلی حالت تک نہیں گرے۔پھر آنے والی لہر انہیں پہلے سے بلند مقام پر چھوڑ گئی۔چنانچہ آزادی اور انسانی حقوق کا جو آج تصور ہے اس کا عشر عشیر کیا اس کا ہزارواں حصہ بھی آج سے دو چار ہزار