خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 406 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 406

خطبات طاہر جلد ۲ 406 خطبه جمعه ۵ را گست ۱۹۸۳ء حق اور حسنہ ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔فرماتا ہے کہ دیکھو ق آیا ہے اور باطل بھاگ گیا ہے کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کبھی حق آئے اور پھر بھاگ جائے یہ ناممکن ہے کیونکہ فرمایا إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا باطل کی فطرت میں حق کے مقابل پر بھاگنا ہے، اس کی ساخت ہی ایسی ہے کہ لازماً اسے حق کے مقابل پر بھا گناہی بھا گنا ہے جس طرح روشنی کے مقابل پر اندھیرے کے لیے فرار کے سوا اور کچھ ممکن نہیں قرآن کریم حسنہ اور حق کی جو تعریف بیان فرماتا ہے وہ نہایت ہی اعلیٰ درجہ کی ایک مثبت تعریف ہے چنانچہ دوسری جگہ فرماتا ہے: فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءَ ۚ وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللهُ الْأَمْثَالَ (الرعد : ۱۸) بدیاں اور بے معنی باتیں تو جھاگ کی طرح ہوا کرتی ہیں ان میں کوئی وزن نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ باقی رہنے والی چیزیں ہیں۔وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ وہ صفات حسنہ جو بنی نوع انسان کے فائدہ کے لیے پیدا کی گئی ہیں ان میں باقی رہنے کی صلاحیت موجود ہے۔فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ وہ زمین میں باقی رہ جاتی ہے۔قرآن مجید کے اس مضمون پر بعض سطحی نظر رکھنے والے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ہم نے تو دنیا میں اس سے برعکس نظارہ دیکھا ہے۔دنیا میں مختلف مذاہب آئے اور چلے گئے۔ہر دفعہ جب وہ غالب آنے کے بعد پیچھے ہے اور وہ زمینیں جہاں ایک دفعہ غلبہ نصیب ہوا تھا ان سے جاتی رہیں تو بدیوں نے پھر وہیں راہ پالی اور گویا بد یوں کا دوبارہ راج شروع ہوگیا لہذاہر نیکی کی لہر عارضی طور پر آتی ہے اور پھر چلی جاتی ہے اور اس دنیا میں مستقل طور پر بدیاں ہی بسیرا کرتی ہیں اور ڈیرا ڈالتی ہیں۔تاریخ انسانی کے سرسری مطالعہ کی بنا پر سطحی نظر کا انسان کہتا ہے کہ پھر اس صورت میں اِنَّ الْحَسَنتِ يُذْهِبْنَ الستات کا کیا مفہوم ہوا جبکہ بظاہر تو یہ نظر آتا ہے اِنَّ السَّيَاتِ يُذْهِبْنَ الْحَسَنَتِ که بالآخر بدیوں نے ہی نیکیوں کو دھکیل کر باہر کیا ہے اور نیکیوں نے بدیوں کو نہیں دھکیلا۔یہ مضمون دو طرح سے غلط ثابت ہوتا ہے اگر چہ سرسری نظر اور تاریخی مطالعہ میں تو بظاہر یہی حقیقت نظر آرہی ہے مگر قرآن کریم کا دعوی لازما سچا ہے اور عقل انسانی کے عین مطابق ہے۔اس صورتحال کا مزید تجزیہ کیا جائے تو آپ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ قرآن کا دعویٰ ہی سچا ہے۔ہمارے