خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 318
خطبات طاہر جلد ۲ 318 خطبه جمعه ۱۰/ جون ۱۹۸۳ء اللہ تعالیٰ اس مضمون کو خوب کھول کر بیان کر دیتا ہے۔اس کی ضرورت بھی اس لئے پیش آئی کہ جب انسان اسلامی روزے کی تعلیم پر غور کرتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے کہ پہلے لوگوں پر اس کا عشر عشیر بھی فرض نہیں تھا اس لئے یہ وہم دل میں پیدا ہوسکتا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ سختیوں سے خوش ہوتا ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ یہ پسند کرتا ہے کہ میرے بندوں پر بوجھ پڑے اور وہ تنگی محسوس کریں اور اس کے نتیجے میں محض تنگی اور محض تکلیف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا موجب بن جاتی ہے؟ جیسا کہ بعض مذاہب میں یہ تصور پایا جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ وضاحت فرماتا ہے کہ ہر گز ایسا نہیں۔چنانچہ سہولتیں بھی دیتا چلا جاتا ہے اور پھر حکمتیں بھی بیان کرتا ہے کہ مقصد تقویٰ کو بڑھانا ہے۔مراد مقصود زندگی عطا کرنا ہے تختی پیدا کرنا ہرگز مراد نہیں۔یہ یمنی چیز ہے۔مقصود بالذات نہیں ہے۔آيا ما مَعْدُو دَتِ فرماتا ہے چند گنتی کے دن ہی تو ہیں۔سارے سال میں سے صرف ایک مہینہ ہے۔گویا موصی جو دسواں حصہ دیتا ہے اس سے بھی کم ، البتہ اگر رمضان کے بعد شوال کے چھ روزے رکھ لیں تو پھر وصیت کا حق یعنی سال کا 1/10 بن جاتا ہے اور اس کا مضمون بھی پورا ہو جاتا ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم پر یہ بہت معمولی بوجھ ہے اور جتنے فوائد ہیں ان کے مقابل پر یہ کچھ بھی نہیں ہے۔گنتی کے چند دن آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں۔بعض لوگوں کے دل میں خوف پیدا ہور ہا ہوتا ہے اور بعض لوگ ان دنوں سے یہ حسرتیں لے کر گزررہے ہوتے ہیں کہ پتہ نہیں اگلے سال پھر یہ دن دیکھنے نصیب بھی ہوں گے یا نہیں۔مگر دونوں قسم کے لوگوں کے دن تھوڑے ہی ہوتے ہیں سختی اور تنگی ترشی محسوس کرنے والوں کے دن بھی گزر جاتے ہیں اور دل میں حسرتیں لئے ہوئے لوگوں کے دن بھی گزرجاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ہیں وہ روزے جو تم پر فرض کئے گئے لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا قرآن کریم فرماتا ہے سختی کی خاطر فرض نہیں کئے گئے۔اللہ تعالیٰ تم پر سختی وارد کرنے سے خوش نہیں ہوتا فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ تم میں سے جو بیمار ہو یا مسافر ہو فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ اس کے لئے فرض ہے کہ بعد کے دنوں میں روزوں کو پورا کرے۔اس میں ایک سہولت دے دی گئی سختی کے روزے مثلاً انتہائی گرمی کے روزے جواب آنے والے ہیں ان میں کوئی شخص اگر بیمار ہو جاتا ہے یا سفر پر ہوتا ہے، اس پر یہ فرض نہیں ہے کہ وہ ضرور انہی دنوں میں گرمی