خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 317 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 317

خطبات طاہر جلد ۲ 317 خطبه جمعه ۱۰/جون ۱۹۸۳ء میں آچکے ہیں مگر حضرت محمد مصطفی ﷺ کو جب یہ بتایا جارہا تھا تو دنیا کے مذاہب کی بھاری اکثریت ایسی تھی جن کے متعلق آنحضرت ﷺ کو اطلاع پانے کو کوئی بھی ذریعہ میسر نہیں تھا اس لئے سب سے پہلے تو توجہ اس طرف منعطف ہوتی ہے کہ عجیب شان کا رسول ہے اور عجیب شان کا کلام اس پر نازل ہو رہا ہے کہ ساری دنیا کے متعلق ایک ایسا دعویٰ کرتا ہے جس کے متعلق کوئی عقلی وجہ موجود نہیں کہ وہ تحدی سے کیا جا سکے اور پھر وہ درست بھی ثابت ہو۔لیکن آج کے زمانے کا انسان جب کامل تحقیق اور ہر قسم کی جستجو کے بعد ایک نتیجہ نکالتا ہے تو وہ بعینہ وہی نتیجہ نکالتا ہے جو حضرت محمد مصطفی ﷺ کو اللہ تعالی کی طرف سے آج سے چودہ سو سال پہلے بتا دیا گیا تھا۔جب آپ تحقیق کریں گے تو آپ کے سامنے دوسرا پہلو یہ آئے گا کہ جس با قاعدگی اور نظام کے ساتھ ، جس تفصیل کے ساتھ اور جتنی زیادہ پابندیوں کے ساتھ مسلمانوں پر روزے فرض ہوئے ویسے کبھی کسی قوم پر فرض نہیں ہوئے۔بائبل میں روزوں کا ذکر ملتا ہے۔مثلاً دسویں محرم کے متعلق آتا ہے کہ یہ وہ دن تھا جب فرعون کے ظلموں سے بنی اسرائیل کو نجات دی گئی تھی۔چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تعلیم میں آتا ہے کہ اس دن کو یا درکھو اور روزہ رکھو ( احبار باب ۲۹:۱۴-۳۴)۔لیکن روزوں کا پورا ایک مہینہ فرض ہونا پہلے کبھی کسی قوم میں نظر نہیں آتا۔علاوہ ازیں روزے کے متعلق جو تفصیلی ہدایات ہیں ان میں بھی بڑا فرق ہے۔بعض پرانے مذاہب میں روزہ اس شکل میں ملتا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز نہیں کھانی، پھل جتنا چاہو کھا لو، فلاں چیز نہیں کھانی اور فلاں نہیں کھانی ، پانی پی سکتے ہو، دودھ پی سکتے ہو۔تو یہ روزہ اسلامی روزے کے مقابل پر محض برائے نام اور سرسری سا روزہ بن جاتا ہے۔پھر بعض مذاہب میں روزے کے ساتھ یہ بھی تاکید ہے کہ کام نہیں کرنا۔یہ بھی عجیب بات ہے کہ کام کا بھی روزہ ہے۔تو جس کو کام سے چھٹی مل جائے اس کا روزہ تو اور بھی آسان ہو جائے گا۔یعنی بظاہر یہ ایسی پابندی ہے جو اسلامی روزے میں نہیں ہے۔لیکن عملاً یہ پابندی نہیں ہے بلکہ رخصت لینے پر مجبور کر دیا گیا ہے کہ تم لوگ کمزور ہو تم میں طاقت نہیں ہے کہ دنیا کے کام کرو اور ساتھ روزہ بھی رکھ سکو اور اس کا حق بھی ادا کر سکو، ایسے لوگ بعد میں آئیں گے جو یہ کام کر سکیں گے۔پس آنحضرت عے کو روزے کی جو تعلیم دی گئی ہے وہ ہر لحاظ سے کامل بھی ہے اور زیادہ مشقت طلب بھی ہے لیکن اس کے باوجود یہ وضاحت کر دی گئی کہ مشقت ڈالنا ہرگز مقصود نہیں ہے۔