خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 296 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 296

خطبات طاہر جلد ۲ 296 خطبه جمعه ۲۷ رمئی ۱۹۸۳ء قَالُوا مَنْ فَعَلَ هُذَا بِالِهَتِنا قوم کے کچھ لوگ ناواقف تھے ان کو علم نہیں تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے قوم کے بعض لوگوں سے کیا بات کی ہے اس لئے انہوں نے کہا یہ کون ہے جس نے ہمارے بتوں سے ایسا فعل کیا ہے؟ یقیناً وہ بہت بڑا ظالم ہے۔تب اس گروہ نے جس سے حضرت ابراہیم کی گفتگو ہوئی تھی کہا کہ ہم نے ایک نوجوان ابراہیم نامی کو ایسی باتیں کرتے سنا تھا یعنی وہ کوئی لکا چھپا مخفی چور نہیں ہے۔وہ تو کھلم کھلا کہہ رہا تھا کہ میں یہ کام کرنے والا ہوں اس لئے لازماً یہ فعل کرنے والا وہی ہے۔پھر انہوں نے کہا اچھا! جو بھی ہے اسے پکڑ کر لاؤ اور عوام الناس کے سامنے پیش کرو تا کہ وہ دیکھیں تو سہی کہ یہ کون جرات مند انسان ہے جو ایسی حرکتیں کرتا ہے۔چنانچہ بھری مجلس میں جب قوم اکٹھی تھی حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو پیش کیا گیا انہوں نے کہا اے ابراہیم ! کیا تو نے ہمارے بتوں سے یہ فعل کیا ہے؟ قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هذا اس کے دو معانی ہو سکتے ہیں۔ایک جیسا کہ تفسیر صغیر میں ہے اور ہمارے بہت سے علما نے وہ ترجمہ کیا ہے۔فَعَلَہ کے بعد وقف ڈالا گیا ہے اور ترجمہ یہ کیا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا کہ کسی کرنے والے نے یہ فعل کیا ہے یعنی فَعَلَہ کا جو فاعل ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام جواباً اس کا ذکر نہیں کرتے۔قوم کے لوگوں نے پوچھا کیا تو نے یہ فعل کیا ہے؟ تو آپ نے کہا کسی کرنے والے نے کیا ہے۔كَبِيرُهُ هذَا ان بتوں میں سے بڑا یہ ہے۔فَسْئَلُوْهُمْ إِنْ كَانُوا يَنْطِقُونَ ان سے پوچھو، اگر یہ بولتے ہیں۔پس یہ میری مرا تھی کہ یہاں پہنچ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام ضمیر بڑے بت کی طرف نہیں پھیرتے کہ اس سے پوچھو، بلکہ کہتے ہیں کہ سب بتوں سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں۔یہ جواب کی ایک طرز ہے اور اس میں ایک حکمت ہے۔میں بتاؤں گا کہ وہ کیا حکمت ہے؟ بہر حال اس ترجمے کو قبول کیا جاسکتا ہے اور اس کے خلاف کوئی قطعی منطقی دلیل نہیں دی جا سکتی کہ یہ ترجمہ ٹھیک نہیں ہے۔ہو سکتا ہے فَعَلَنے کے بعد وقف ہو تو معنی یہ بنیں گے کہ کسی کرنے والے نے ایسا کیا ہے۔ان میں سے بڑا تو یہ ہے اور ان سے پوچھ لو کہ کیا واقعہ ہوا؟ لیکن اس ترجمے پر ایک چھوٹا سا اعتراض وارد ہوتا ہے کہ جب بڑے بت کو اس لئے بچایا تھا کہ لوگ اس کی طرف رجوع کریں اور یہ ثابت کیا جائے کہ اس بڑے نے دوسرے بتوں کو توڑا ہے تو پھر یہ سوال اٹھنا چاہئے تھا کہ اس بڑے سے پوچھ لو اور صحیح سلامت بھی وہی موجود تھا اس کا ذکر کیوں نہیں کیا۔ٹوٹے ہوئے