خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 297
خطبات طاہر جلد ۲ 297 خطبه جمعه ۲۷ رمئی ۱۹۸۳ء بتوں سے پوچھنے کا کیوں کہا؟ لیکن اگر فَعَلَہ کی ضمیر كبیرھم کی طرف پھیری جائے تو پھر یہ اعتراض پیدا نہیں ہوتا فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ کا مطلب یہ بنے گا کہ یقینا اس بڑے بت نے ی فعل کیا ہے۔مجرم تو اقراری نہیں ہوا اس لئے جن کو مارا ہے ان سے پوچھو۔اگر یہ بول سکتے ہیں تو بتا دیں گے اور اگر تمہارے خدا ایسے ہیں، انسان کے مارنے سے مرجاتے ہیں تو پھر بول نہیں سکیں گے۔لیکن اگر تمہارا دعویٰ یہ ہے کہ تمہارے خدا نہیں مرتے تو پھر ان کو اس حالت میں بھی بول پڑنا چاہئے۔جن پر ظلم ہوا ہے ان سے کیوں نہیں پوچھتے کہ تمہیں کس نے مارا ہے؟ عبارت کی رو سے بظاہر یہ ترجمہ زیادہ قرین قیاس نظر آتا ہے لیکن اس پر اعتراض پڑتا ہے کہ گویا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نعوذ باللہ جھوٹ بولا۔اس لئے سلسلہ عالیہ احمدیہ کے جتنے علما بھی پہلا ترجمہ کرتے ہیں وہ اسی احتمال سے بچنے کے لئے وہ ترجمہ کرتے ہیں۔یہ ہمارے بنیادی عقائد میں داخل ہے کہ نبی معصوم ہوتا ہے اور اس کے جھوٹ بولنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پس چونکہ دوسرے ترجمے سے یہ احتمال پیدا ہو جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا جھوٹ تسلیم کر لیا جائے اس لئے اس اعراض کی خاطر ثانوی درجے کا ترجمہ قبول کر لیا جاتا ہے۔گویا ایک مجبوری در پیش ہے ور نہ سیاق عبارت کے لحاظ سے تو دوسرا ترجمہ ہی موزوں نظر آتا ہے۔جہاں تک میں نے غور کیا ہے میرے نزدیک ایسی کوئی مجبوری در پیش ہی نہیں ہے۔اگر دوسرا ترجمہ بھی قبول کر لیا جائے یعنی یہ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ اس بڑے بت نے مارا ہے تم ان بتوں سے پوچھ لو تو ہر گز کسی جھوٹ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔کیوں؟ میں اس کی وجہ بتا تا ہوں۔اگر ہم صحیح معنوں میں جھوٹ اور سچ کا تجزیہ کریں کہ جھوٹ کیا ہوتا ہے اور سچ کیا ہوتا ہے؟ ان کی کوئی ایسی کامل تعریف کریں جو جامع اور مانع ہو تو بعض ایسی صورتیں بھی آپ کے سامنے آئیں گی کہ ایک بیان کرنے والا خلاف واقعہ بیان کرتا ہے لیکن جھوٹ نہیں بول رہا ہوتا اور ایک بیان کرنے والا واقعہ صحیح بیان کر رہا ہوتا ہے لیکن جھوٹ بول رہا ہوتا۔یہ دو قطعی صورتیں ہمارے سامنے آتی ہیں۔مثلاً بچہ بعض دفعہ تنگ کرتا ہے اور پوچھتا ہے فلاں چیز کہاں گئی؟ آپ کہتے ہیں کہ زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔حالانکہ یہ واقعات کے بالکل خلاف ہے۔یا مثلاً میز پڑی ہوئی ہے تو کوئی چڑ کر جواب دیتا ہے کہ یہ میں نے کھالی ہے میرے پیٹ سے نکال لو۔حالانکہ یہ بات بھی واقعہ کے بالکل