خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 295 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 295

خطبات طاہر جلد ۲ قوم کی طرف الٹا رہے ہیں۔295 خطبه جمعه ۲۷ رمئی ۱۹۸۳ء پھر قوم کے لوگوں نے کہا کہ اے ابراہیم ! کیا تو کسی خاص سچائی کو لے کر ہمارے پاس آیا ہے، ایسی حقیقت کو جس کا ہم انکار نہیں کر سکتے یا محض ہم سے مذاق کر رہا ہے؟ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کا یہ جواب دیا کہ تمہارا رب آسمان اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور یہ وہ بات ہے جس پر میں پوری طرح گواہ ہوں اس کے سوا میں کسی حق کو نہیں جانتا۔میں اس بات پر گواہ ہوں کہ خدا کے سوا اور کوئی نہیں ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہو اور اس کے خلاف تم کوئی شہادت پیش نہیں کر سکتے۔اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو کہا کہ میں اسی خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کا میں ذکر کر رہا ہوں کہ لازماً میں تمہارے بتوں کے خلاف کوئی تدبیر کروں گا ایسی تدبیر جس سے ان کا جھوٹ ثابت ہو جائے۔لیکن یہ تدبیر میں اس وقت کروں گا جب تم لوگ مجھے چھوڑ کر الگ ہو جاؤ گے اور جب ان بتوں کو خالی یعنی بغیر حفاظت کے چھوڑ دو گے۔میں نے کچھ کر نا ضرور ہے لیکن ایسا فعل کرنا ہے جس کو تمہارے ہوتے ہوئے نہیں کر سکتا کیونکہ تم مجھے روک دو گے۔پس جب میں نے دیکھا کہ تمہارے بت خالی پڑے ہیں تمہاری حفاظت سے باہر ہیں تو اس وقت میں ان کے ساتھ کچھ کر دوں گا۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو موقع ملا اور انہوں نے ان بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا سوائے ایک کے جو ان میں سب سے بڑا تھا۔لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ تا کہ اس بارہ میں وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف رجوع کریں۔یہاں الیہ کی ضمیر بڑے بت کی طرف نہیں جاتی بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف جاتی ہے کیونکہ جیسا کہ بعد کی آیت مضمون کو کھول دے گی ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے واضح طور پر انہیں یہ نہیں کہا تھا کہ بڑے بت سے پوچھو بلکہ ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھنے کے متعلق کہا تھا اسی لئے وہاں جمع کا صیغہ استعمال کیا ہے۔پس حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا شروع سے ہی یہ موقف تھا کہ میں قوم کو متنبہ کردوں کہ میں ہی ہوں اور جب کچھ ہو جائے تو وہ میری طرف آئیں اور کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ رہیں کہ کس نے یہ کام کیا اور کیوں کیا ؟ یعنی آغا ز ہی سے آپ بات کو خوب کھولتے چلے جارہے ہیں۔