خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 294 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 294

خطبات طاہر جلد ۲ 294 خطبه جمعه ۲۷ مئی ۱۹۸۳ء يَابْرُ هِيمُ قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا فَسْتَلُوهُمْ إِنْ كَانُوْا يَنْطِقُوْنَ فَرَجَعُوا إِلَى أَنْفُسِهِمْ فَقَالُوا إِنَّكُمْ أَنتُم الظَّلِمُونَ ثُمَّ نُكِسُوا عَلَى رُءُ وَسِهِمْ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَؤُلَاءِ يَنْطِقُونَ۔قَالَ اَفَتَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ مَا لَا يَنْفَعُكُمْ شَيْئًا وَلَا يَضُرُّ كُمْ أَنّ لَكُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ أَفَلَا تَعْقِلُوْنَ قَالُوا حَرِقُوْهُ وَانْصُرُوا الهَتَكُمْ إِنْ كُنتُمْ فَعِلِينَ قُلْنَا لِنَارُ كُونِي بَرْدًا وَ سَلَمَّا عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْتُهُمُ الْأَخْسَرِينَ (الانبياء ۵۲-۷۱) اور پھر فرمایا: حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے جو بہت سے مجادلات غیروں سے ہوئے ان میں سے ایک کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے ابراہیم کو پہلے ہی سے بصیرت عطا فرمائی ہوئی تھی اور ہدایت دے رکھی تھی اور ہم ابراہیم کی ذات سے بخوبی واقف تھے۔اس کے اندر جتنی خوبیاں پنہاں تھیں ان سب پر ہماری نظر تھی۔وہ ایک صاحب رشد انسان تھا گہری خوبیوں کا مالک تھا۔وہ صاحب عقل تھا اس لئے کوئی خلاف عقل بات وہ نہیں کر سکتا تھا۔یہ سب کچھ جاننے کے بعد ہم یہ واقعہ بیان کرتے ہیں۔جب ابراہیم نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا کہ تم نے یہ کیا بت بنا رکھے ہیں جن کے سامنے تم وقف ہو بیٹھے ہو۔دھرنا دے کے بیٹھ رہے ہو۔آخر یہ ہیں کیا چیز؟ تو قوم کے لوگوں نے کہا ہم نے اپنے آبا ؤ اجداد کو اسی طرح دیکھا تھا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اچھا، یہ بات ہے تو تم بھی اور تمہارے آبا ؤ اجداد بھی کھلی کھلی گمراہی میں مبتلا ہو۔صرف ایک نسل کا معاملہ نہیں۔معلوم ہوتا ہے تم پشتوں کے بگڑے ہوئے ہو۔وہ بھی غلط تھے اور تم بھی غلط ہو۔یعنی اگر کوئی یہ دلیل دے کہ میں نے اپنے ماں باپ کو اسی طریق پر پایا ہے اس لئے میں سچا ہوں تو یہ بڑی نا معقول بات ہے۔اگر وہ خود جھوٹا ہے تو اس کا یہ مطلب بنے گا کہ اس کے ماں باپ بھی جھوٹے ہیں۔یہ نتیجہ تو نکل سکتا ہے لیکن یہ نتیجہ کیسے نکل آیا کہ چونکہ ماں باپ نے ایسا کیا تھا اس لئے ہم بچے ہیں۔یہ ہے دلیل جو حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام