خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 290
خطبات طاہر جلد ۲ 290 خطبه جمعه ۲۰ رمئی ۱۹۸۳ء واقعات کا خلاصہ سنا رہے ہیں اور ایک ایسی تاریخ بتا رہے ہیں جو حضرت نوح علیہ السلام کے وقت سے جاری ہے اور ان تین انبیاء علیہم السلام کے وقت میں بھی جاری رہی جن کے ہم نے نام لئے ہیں اور پھر بے شمار ایسے انبیاء کے وقت میں بھی اسی طرح جاری رہی جن کے ناموں کو خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔جب بھی انہوں نے یہ کہا تو مقابل پر یہ کہا گیا، انہوں نے یہ کہا تو مقابل پر یہ کہا گیا۔غرض یہ باتیں سننے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے پھر منکرین کی قوم نے اپنے رسولوں سے کہا، اچھا! تو کل کرتے ہو اپنے رب پر تو پھر تو تمہارا علاج آسان ہے ،تم تو ہمارے قبضہ قدرت میں ہو، لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِنْ اَرْضِنَا ہم تمہیں اپنے وطن سے نکال دیں گے۔گویا کہ ان کو وطنیت کے حق سے ہی محروم کر دیا۔جس زمین میں وہ پہلے ، جس زمین کا انہوں نے پانی پیا، اس زمین سے رزق حاصل کیا ، اسی شہر، اسی جگہ کے وہ لوگ متوطن تھے لیکن قوم مقابل پر تکبر کی انتہا کر دیتی ہے۔کہتی ہے ہمارا ملک ہے تمہارا تو نہیں اور ہم اختیار رکھتے ہیں کہ تمہیں اس زمین سے نکال دیں۔خدا کے رسول اس کا کوئی جواب نہیں دیتے خاموشی اختیار کرتے ہیں اور پیشتر اس کے کہ وہ جواب دیں اللہ تعالیٰ آسمان سے ان پر وحی نازل فرماتا ہے لَنُهْلِكَنَّ الظَّلِمِینَ تمہیں ہرگز کسی معاملہ میں دخل دینے کی ضرورت نہیں ہے، کوئی ہاتھ ہلانے کی ضرورت نہیں، ہم ظالموں کو ہلاک کریں گے۔ان کو آسمان سے آواز سنائی دیتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ کس زمین کے مالک بن بیٹھے ہیں، وطن کس کے ہیں، خدا کے سوا کسی کے وطن نہیں ہیں اور خدا کے سوا کسی کی زمین نہیں ہے۔انبیاء کے مخالفین کہتے ہیں ہم تمہیں اس زمین سے نکال دیں گے لیکن خدا کہتا ہے ہم آسمان سے تمہیں خوشخبری دیتے ہیں لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْأَرْضَ مِنْ بَعْدِ ھم یہ لوگ تو قصہ ماضی بن چکے ہیں، یہ تو کہانیاں بن جانے والے ہیں، ان کے بعد ہم تمہیں ان زمینوں کا وارث بنائیں گے جن سے نکالنے کا یہ دعویٰ کر رہے ہیں۔ذلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِي وَخَافَ وَعِيْدِ یہ شاندار مستقبل اس قوم کا ہے جو میرے مقام کا خوف رکھتی ہے اور میرے وعید سے نصیحت پکڑتی ہے اور استفادہ کرتی ہے اور ان باتوں سے ڈرتی ہے جن باتوں سے میں ڈرایا کرتا ہوں۔جب خدا تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ ان قوموں کو یہ پیغام دیا اور یہ جاری وساری پیغام ہے، یہ ایسی کہانیاں ہیں جو ہمیشہ دہرائی جاتی رہی ہیں اور دہرائی جائیں گی۔دنیا ان کہانیوں میں ایک بھی استثناء