خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 291
خطبات طاہر جلد ۲ 291 خطبه جمعه ۲۰ رمئی ۱۹۸۳ء نہیں دیکھے گی۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے رسولوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے گفتگو بند کر دی وَاسْتَفْتَحُوا اور عرض کیا کہ اے اللہ افتح تو تیرے ہاتھ میں ہے، ہم نے تجھ پر تو کل کیا تھا، تیرا بے انتہا احسان اور کرم ہے کہ پیشتر اس کے کہ ہم دعا کرتے تو اپنے فضل سے ہم پر رجوع برحمت ہوا اور تو نے آسمان سے ہمیں خوشخبریاں دینا شروع کر دیں پس ہم تجھ سے ہی فتح مانگتے ہیں۔چنانچہ یہ کہتے ہوئے انہوں نے اپنے رب سے فتح مانگی وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدِ اور ہر وہ شخص جس نے تکبر اختیار کیا تھا اور جبر اختیار کیا تھا ہر سرکش اور حق کا دشمن ناکام و نامرادر ہا۔قرآن کریم کا یہ وہ طرز بیان ہے جس کا میں نے ذکر کیا تھا۔کتنا حیرت انگیز نصیحت کا طریق ہے، کیا پیارا انداز ہے اور کتنا یقین سے پر ہے، کتنا قطعی اور اٹل ہے اس تقدیر میں جو خدا نے بیان کی ہے نہ پہلے کبھی کوئی تبدیلی ہوئی ہے اور نہ اب کوئی تبدیلی ہوسکتی ہے۔پس وہ لوگ جو ہمیشہ خدا کے نام کھڑے ہوں گے ان کے لئے ان رستوں کے سوا اور کوئی رستہ نہیں ہے اس لئے ان کو لازماً صبر کرنا پڑے گا اور لازماً خدا کی خاطر دکھوں کو برداشت کرنا ہوگا اور استقامت دکھانی ہوگی اور خدائے حیی و قیوم پر تو کل بھی کرنا ہوگا اور لوگوں کو بتانا ہوگا کہ ہم خدا پر توکل کرتے ہوئے صبر کر رہے ہیں۔تب ہمیشہ ایسی قوموں پر خدا کی وہ تقدیر بھی لازم ظاہر ہوگی جس کا ان آیات میں ذکر کیا گیا ہے۔دنیا کی کوئی طاقت نہیں ہے جو خدا کی راہ میں حائل ہو سکے۔جب وہ فیصلہ فرماتا ہے کسی قوم کو فتح دینے کا تو لا زماوہ فتح پاتی ہے اور جب وہ فیصلہ فرماتا ہے کسی قوم کو ہلاک کرنے کا تولا زماوہ ہلاک کی جاتی ہے اور قصہ کہانی بنادی جاتی ہے۔روزنامه الفضل ربوه ۲ اکتوبر ۱۹۸۳ء)