خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 289
خطبات طاہر جلد ۲ 289 خطبه جمعه ۲۰ رمئی ۱۹۸۳ء ہے۔مسجد مبارک میں نماز کے بعد مجلس ارشاد گی ہوئی تھی۔اس نے بیٹھ کر خدا کی ہستی کے خلاف چند دلائل دینے شروع کر دیئے۔وہ دلائل دیتا رہا اور حضرت صاحب مسکراتے رہے۔جب اس نے بات ختم کی تو آپ نے فرمایا کہ مجھے تو تم پر ہنسی آرہی ہے تم مجھے یہ دلیل دے رہے ہو کہ خدا کی ہستی نہیں ہے حالانکہ وہ ہستی مجھ سے کلام کرتی ہے۔مجھے سے پیار اور محبت کا سلوک کرتی ہے اور بارہا مجھ پر ظاہر ہو چکی ہے اور تم باہر بیٹھے مجھے پیغام دینے آئے ہو کہ وہ ہستی موجود نہیں۔کیسی بے وقوفوں والی بات ہے۔یہ بالکل وہی طرز استدلال ہے جو انبیاء اختیار کرتے رہے ہیں یا یوں کہنا چاہئے کہ حضرت مصلح موعود نے وہی طرز استدلال اختیار کی جو انبیاء اختیار کرتے چلے آئے ہیں۔قرآن کریم کے مطابق خدا رسیدہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر توکل کیوں نہ کریں۔انسان ہمیشہ اس چیز پر توکل کیا کرتا ہے جس پر کامل یقین ہو۔تم تو کہتے ہو ہمیں شک ہے اس لئے تمہارے لئے تو کل کا کوئی سوال ہی نہیں۔ہمیں تو خدا تعالیٰ سے ہدایت مل چکی ہے۔ہم سے تو خدا کلام فرماتا ہے، ہم پر تو رحمتیں نازل فرما رہا ہے، اتنے پیار کرنے والے اور ایسے باوفا خدا پر ہم تو کل نہ کریں تو ہم بڑے ہی ظالم لوگ ہوں گے۔ہم نہ صرف یہ کہ اس پر تو کل کریں گے بلکہ تو کل کا ثبوت اپنے صبر سے دیں گے۔زبانی تو کل کرنا اور چیز ہے لیکن دکھوں کی زندگی قبول کر لینا جبکہ انسان اس زندگی سے بچ بھی سکتا ہے یہ ہے صحیح تو کل۔پس اس دلیل کو کتنا مضبوط کر دیا جب فرمایا لَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا أَذَيْتُمُونَا خدا کی قسم ہم صبر کریں گے اس ظلم پر اور اس دکھ پر جو تم ہمیں دو گے اور دیتے چلے جارہے ہو۔تم نے جتنے مصائب ہم پر توڑے ہیں چونکہ ہمارا معاملہ خدا کے ساتھ ہے اور ہم خدا کی طرف دیکھ رہے ہیں اس لئے ہم صبر کریں گے اور اس سے زیادہ کوئی اور دلیل نہیں دی جاسکتی اس بات کے حق میں کہ ہم خدا پر توکل کرنے والے ہیں قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیں گے بلکہ اللہ کے قانون کو جاری ہونے دیں گے اور یقین رکھتے ہیں کہ وہ ضروری جاری ہوگا۔وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكَّلُونَ اور ہاں ہم پھر اعلان کرتے ہیں کہ جو لوگ تو کل کرنے والے ہوتے ہیں وہ اللہ کی ذات پر تو کل کیا کرتے ہیں۔یہ بات سن کر وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا تھا۔قرآن کریم کے مطابق ان پر پے در پے ایسے واقعات رونما ہوئے کہ وہ تاریخ کا حصہ بن گئے۔چنانچہ قرآن کریم کہتا ہے کہ ہم تمہیں ان سارے