خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 288
خطبات طاہر جلد ۲ 288 خطبه جمعه ۲۰ رمئی ۱۹۸۳ء فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ اور مومن تو اللہ پر ہی تو کل کیا کرتے ہیں۔باتوں کے پردہ میں پھر وہی طرز گفتگو چل رہی ہے۔بڑی ملائمت کے ساتھ مخفی انداز بھی ہو رہا ہے۔رسول فرماتے ہیں تم ہم سے کس دلیل کی توقع رکھتے ہو۔ہم تو تمہیں بتا چکے ہیں کہ پہلے بھی انبیاء آتے رہے ہیں۔جب بھی اور جس نے بھی ان کا انکار کیا وہ ہلاک ہو گیا۔فرمایا غلبہ کی یہ دلیلیں اگر تم چاہتے ہو تو وہ تو ہمارے بس میں نہیں ہے۔کیوں نہیں ہے تم خود ہی کہہ چکے ہو کہ ہم تمہاری طرح کے بشر ہیں۔جب ہم تمہاری طرح کے بشر ہیں تو پھر ہم سے کیا توقع رکھ سکتے ہو کہ ہم تم پر غالب آجائیں گے۔ہم تو غالب آنے کی طاقت نہیں رکھتے، تمہاری طرح کے بشر ہیں اور تعداد میں کمزور، اپنی طاقت میں کمزور اور اپنے جتھے میں کمزور ہیں۔تمہارے مقابل پر ہماری تو کوئی حیثیت ہی نہیں۔ہم سے کیا مانگتے ہو جو ہستی غلبہ کی دلیل دے سکتی ہے اس کے تم منکر ہور ہے ہو اس لئے تم سے مزید گفتگو چل نہیں سکتی۔اگر تم یہ تسلیم کر لیتے کہ ہم خدا کی طرف سے باتیں کرتے ہیں تو تمہارا یہ مطالبہ برحق تھا کہ سلطان مبین لے کر آؤ۔تم تو مان ہی نہیں رہے کہ ہم خدا کی طرف سے ہیں اور جو تم ہمارے متعلق مانتے ہو ہم بھی اپنے متعلق مانتے ہیں کہ ہم بھی تمہاری طرح کے بشر ہیں۔بشریت کے لحاظ سے تم پر کوئی فوقیت نہیں رکھتے۔اس لئے تمہارا ہم سے یہ مطالبہ نہایت ہی غیر معقول ہے کہ تم بشر ہوتے ہوئے اور کمزور ہوتے ہوئے ہمارے خلاف غلبہ کی دلیل لے کر آؤ۔لیکن ہم جانتے ہیں کہ اللہ ہے، ہم جانتے ہیں کہ اس نے ہمیں کھڑا کیا ہے، ہم جانتے ہیں کہ اس نے ہمیں انذار کے لئے بھجوایا ہے اس لے عَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكَّلُونَ تو کل کرنے والے ہمیشہ اپنے رب پر تو کل کیا کرتے ہیں اور ہم بھی اپنے اللہ پر ہی تو کل کرتے ہیں اور اس پر بات کو چھوڑ دیتے ہیں۔ابھی مناظرہ چل رہا ہے، ابھی گفتگو جاری ہے۔انبیاء اپنی قوم کے لوگوں سے کہتے ہیں کہ تمہاری بات تو ختم ہو گئی آگے نہیں بڑھ سکتی۔ہم نے تو تمہیں اس کا خوب ٹھوس جواب دے دیا ہے لیکن ہماری بات ابھی جاری ہے وَمَا لَنَا الَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم اللہ پر توکل نہ کریں وَقَدْ هَد نَا سُبُلَنا جبکہ وہ ہمیں ہدایت دے چکا ہے۔انہوں نے اتنے یقین کے مقام پر فائز ہو کر بات کی ہے کہ جب تک کسی نے کچھ پانہ لیا ہو اس قسم کا کلام اس کے منہ سے نہیں نکل سکتا۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے پاس ایک دہر یہ آیا۔یہ قادیان کی بات