خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 285 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 285

خطبات طاہر جلد ۲ 285 خطبه جمعه ۲۰ رمئی ۱۹۸۳ء ان پر رجوع فرمائے اور غیر معمولی فضل نازل فرمائے ایسی قوم کی نجات کا کوئی ذریعہ باقی نہیں رہتا۔پس انبیاء ان کو سمجھاتے ہیں کہ تم اپنا حال کیوں نہیں دیکھتے۔تم سر سے پاؤں تک گنا ہوں اور گندگی میں ملوث ہو چکے ہو۔خدا تمہیں بلا رہا ہے اس لئے کہ تمہاری مغفرت فرمائے اور تم یہ جواب دے رہے ہو کہ ہم شک کر رہے ہیں۔ہمیں تعجب ہے کہ تم کیا با تیں کرتے ہو۔پھر فرمایا وَ يُؤَخِّرَكُمْ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى۔یہ دوسرا پیغام ہے۔اس میں بہت ہی گہرا انداز ہے اور بہت ہی وسیع انداز ہے۔جواب میں بظاہر کوئی دھمکی نہیں ہے۔ایسے حیرت انگیز طریق پر اور ایسی ملائمت کے ساتھ بات کی گئی ہے کہ اس میں سننے والے کے لئے بظاہر غصہ کی کوئی وجہ نہیں ہے۔لیکن آپ اس مضمون پر غور کریں تو اس میں اتنا گہرا انداز ہے کہ صاحب عقل اور صاحب رشد انسان کو یہ سن کر لرز جانا چاہئے۔ان رسولوں نے جواب دیا کہ تمہیں بخشش کی طرف بلایا جا رہا ہے۔تمہاری بخشش نہ کی گئی تو تمہاری صف لپیٹ دی جائے گی اس لئے کہ تم اس انجام کو پہنچ چکے ہو جس کے بعد قو میں زندہ نہیں رکھی جاسکتیں وہ لازماً ہلاک کر دی جاتی ہیں اس لئے خدا تمہیں بلا رہا ہے۔فرمایا وَيُؤَخِّرَكُمْ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى یہ تمہیں آخری مہلت ہے تا کہ تمہاری وہ مدت جس تک تم باقی رکھے جاسکتے ہو اس کے آخری کنارے تک تم پہنچ جاؤ نہ یہ کہ پہلے کنارے پر پکڑے جاؤ۔اللہ تعالیٰ نے قوموں کی جو عمریں اور مدتیں مقررفرمائی ہیں ان کے متعلق بعض آیات سے پتہ ملتا ہے کہ جب وقت آجاتا ہے تو نہ ان کو چھوٹا کیا جاسکتا ہے نہ ان کو لمبا کیا جاسکتا ہے۔(الاعراف: ۳۵) سوال یہ ہے کہ کیا یہ آیت اس مضمون کے منافی ہے، کیا ان دونوں مضامین میں تضاد ہے۔ایک طرف تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب قوموں کا وقت آجاتا ہے تو پھر کوئی ڈھیل نہیں دی جاتی۔نہ ایک لمحہ کے لئے اس وقت کو آگے کیا جاسکتا ہے نہ ایک لمحہ کے لئے پیچھے کھینچا جا سکتا ہے۔اور یہاں فرماتا ہے وَيُؤَخِّرَ كُم إِلَى اَجَلٍ مُّسَمًّی اگر تم خدا کی آواز پر کان دھرو گے اور بخشش کی طرف دوڑے چلے آؤ گے تو اللہ وعدہ کرتا ہے کہ وَيُؤَخِّرَكُمْ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى تمہاری اجل مسمی تک تمہیں آگے بڑھا دے گا۔معلوم یہ ہوا کہ اجل مسمی سے مراد ایک پر لا کنارا بھی ہے اور اجل مسٹمی سے مراد ایک ادھر کا کنارا بھی ہے۔وہ قومیں جو بیمار ہو جاتی ہیں وہ اپنی مدت معینہ کے پہلے کنارے پر ہلاک کی جاتی ہیں اور وہ قو میں جو صحت مند ہوتی ہیں وہ آخر وقت تک عمر پاتی ہیں۔یہاں تک کہ اجل مسمی کا آخری کنارا