خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 286
خطبات طاہر جلد ۲ 286 خطبه جمعه ۲۰ رمئی ۱۹۸۳ء آجائے۔یہی حال ہم انفرادی زندگی میں بھی دیکھتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ ہر انسان کی زندگی مقدر ہے، ہر انسان اجل مسمی لے کر آیا ہے اور ساتھ ہی یہ فرمایا جاتا ہے لكل داء دواء صحیح مسلم کتاب السلام باب لكل داء دواء) ہر بیماری کی شفا بھی ہے۔دعائیں بھی مانگو، علاج بھی کرو، ہر ممکن کوشش کرو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری زندگی کولمبا فرمادے۔معلوم ہوتا ہے ہر انسان کے لئے Inherent یعنی ودیعت کی ہوئی کچھ عمر ہے۔وہ اپنی زندگی کو جس طرح چاہے استعمال کرے۔اسی طرح کا جواب اس کی عمر کی صورت میں ظاہر ہوگا۔اگر وہ اپنی عمر عزیز کو ضائع کرے گا اور سرکشی سے کام لے گا اور خدا تعالیٰ کے بیان فرمودہ قوانین کے اندر نہیں رہے گا اور اعتدا کرے گا تو وہ مدت معینہ جو اس کے لئے مقرر ہے اس کے پہلے کنارے پر وہ پکڑا جائے گا اور اگر اس نے ان سب تقاضوں کو پورا کیا تو پھر وہ آخری مدت تک پہنچایا جائے گا۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ خدمت خلق لمبی عمر کا راز ہے۔(البدر جلد ۲ نمبر ۱۸ مورخہ ۲ مئی ۱۹۰۳ء) اگر عمر کی تعیین ایک لمحہ، ایک ثانیہ سے تعلق رکھتی ہے تو پھر یہ بات ہی بے معنی بن جاتی ہے۔اس سے لازماً یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو نہم قرآن عطا فر مایا گیا تھا اس سے آپ نے یہ راز پایا کہ بظاہر عمر مقر ر ہے لیکن اس عمر کی دو حدیں مقرر ہیں ایک اول حد اور ایک آخر حد۔پس اس مضمون کو کھولتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو! تم اپنی ذلت اور نکبت اور بداعمالیوں میں اس مقام کو پہنچ چکے ہو کہ آسمان پر لکھا جا چکا ہے کہ اب تم پکڑے جاؤ گے لیکن یہ تمہارے پکڑے جانے کا پہلا وقت ہے۔ابھی تمہارے زندہ رہنے کے لئے بہت دن باقی ہیں۔خدا کی تقدیر اگر چاہے تو تمہاری عمر کو لمبا کر سکتی ہے اس لئے ہم تمہیں بلا رہے ہیں اور ہم تمہیں نصیحت کرتے ہیں کہ خدا کی طرف توجہ کرو، وہ چاہتا ہے تم پر رحم فرمائے اور تمہاری عمر بڑھا دے۔اب یہ اتنی معقول اور اتنی مدلل بات ہے اور اتنے پیارے انداز میں انذار کیا گیا ہے کہ اس کو سننے کے باوجود انہوں نے کہا اِنْ اَنْتُمْ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَا باتیں خدا کی کرتے ہو اور ہو ہماری طرح کے انسان۔تمہاری حیثیت کیا ہے۔ہم کوئی فوقیت نہیں دیکھتے جو تمہیں ہم پر حاصل ہو۔تم فرشتے نہیں تم ما فوق البشر طاقتیں لے کر نہیں آئے ، ہماری طرح کھاتے پیتے ہو، ہماری طرح گلیوں میں چلتے پھرتے ہو، ہماری