خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 284 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 284

خطبات طاہر جلد ۲ 284 خطبه جمعه ۲۰ رمئی ۱۹۸۳ء یہ وہ نہایت ہی متکبرانہ طرز عمل ہے جو قرآن کریم کے مطابق آنحضور ﷺ سے قبل کے انبیاء سے لوگوں نے اختیار کیا۔مخاطب اول طور پر کفار مکہ ہیں اور مراد وہ سارے لوگ ہیں جو حضرت محمد مصطفی ﷺ کا انکار کرنے والے تھے یا آئندہ آنے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو! یہ پہلے ہی ہو چکا ہے تم بڑی حقارت سے حضرت محمد مصطفی علی کے پیغام کو دیکھ رہے ہو اور تکبر کے سارے ذرائع اختیار کر رہے ہو۔تم سمجھتے ہو تم بڑی بڑی قو میں ہو اور بڑی عظمتوں کے مالک ہو اور محمد مصطفی میے پر جولوگ حقیقی ایمان لانے والے اور سچے مومنین اور آپ سے پیار کرنے والے ہیں وہ تمہارے مقابل پر تعداد میں ایک معمولی حیثیت بھی نہیں رکھتے۔اگر یہ نہ ہوتا تو اس تکبر سے تم باتیں نہ کرتے لیکن ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ اس سے پہلے یہ واقعات رونما ہو چکے ہیں۔تم نئے نہیں ہو اور اس سے پہلے پہلے ان قوموں کے انجام بھی گزر چکے ہیں جنہوں نے اپنے وقت کے نبی کا انکار کیا لیکن جہاں تک ان کمزوروں اور غریبوں اور نہتوں کا تعلق ہے جن کے ساتھ یہ تذلیل کا سلوک کیا گیا ان کا جواب بالکل اور تھا۔انہوں نے غصہ نہیں کیا ، انہوں نے نفرت نہیں کی ، انہوں نے مقابل پرسختی کا سختی سے جواب نہیں دیا بلکہ سیدھی سادی اور صاف باتیں کہیں اور قول سدید سے نہیں ہے۔ان رسولوں نے جو مختلف قوموں کی طرف بھیجے گئے قرآن کریم کے مطابق انہوں نے لوگوں سے یہ کہا فِي اللهِ شَكٍّ فَاطِرِ السَّمَوتِ تم عجیب باتیں کرتے ہو، ہم تو تمہیں خدا کی طرف بلا رہے ہیں۔ہم اپنی طرف تو تمہیں نہیں بلا ر ہے۔ہم تو ان نیکیوں کی طرف بلا رہے ہیں جو خدا کی ذات سے وابستہ ہیں اور ان نیک کاموں کی طرف بلا رہے ہیں جو ہمیشہ سے خدا والے کرتے چلے آئے ہیں۔ہم تمہیں ایسا کوئی کام نہیں بتاتے جو خدا کے سوا کسی اور وجود کی طرف منسوب ہوسکتا ہو۔ہماری تعلیم بتاتی ہے کہ ہم تمہیں اللہ کی طرف بلا رہے ہیں۔جب تم یہ کہتے ہو کہ ہم شک کرتے ہیں تو کیا خدا کی ذات میں شک کرتے ہو، کیا ان نیکیوں میں شک کرتے ہو جن کی طرف ہم تمہیں بلا ر ہے ہیں۔ہم تمہیں اس خدا کی طرف بلا رہے ہیں جس نے آسمانوں کو بھی پیدا کیا اور زمین کو بھی پیدا کیا۔وہ تمہیں بلاتا ہے ہم نہیں بلاتے اور وہ بلاتا ہے اس غرض سے کہ تمہاری بخشش فرمائے۔اس میں یہ بھی بیان فرما دیا کہ جس وقت رسول آتے ہیں اور قوم کو خدا کی طرف بلاتے ہیں، وہ انتہائی گنہگار ہو چکی ہوتی ہے۔ہر قسم کے گناہوں میں ملوث ہو چکی ہوتی ہے اور سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ رحمت کے ساتھ