خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 283
خطبات طاہر جلد ۲ 283 خطبه جمعه ۲۰ رمئی ۱۹۸۳ء الَمْ يَأْتِكُمْ نَبَوا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ اے وہ لوگو جومحمد مصطفی عملے کے مقابلے پر نکلے ہو، اے تکبر اور نخوت سے کام لینے والو اور اے اباء کرنے والو! کیا تمہیں ان قوموں کی خبریں نہیں پہنچیں جو قوم نوح تھی اور قوم عاد تھی اور قوم خمود تھی اور ان قوموں کی بھی جوان کے بعد آنے والی تھیں، ان کی تفاصیل کا اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کو علم نہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ان سب کے پاس اللہ تعالیٰ کے رسول کھلے کھلے نشانات لے کر آئے فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ لیکن انہوں نے رسولوں کے پیغام کو رد کر دیا۔فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ کا محاورہ عربی میں انکار کرنے اور کسی بات کو رد کرنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے لیکن ہر موقع اور محل پر یہ محاورہ اطلاق نہیں پاتا بلکہ ایک خاص قسم کی صورتحال کے لئے یہ طرز بیان اختیار کی جاتی ہے۔کسی پیغام کو رد کرنے والے مختلف قسم کے لوگ ہو سکتے ہیں، کچھ وہ جو بڑے ادب اور احترام کے ساتھ معذرت کرتے ہوئے رد کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ آپ کا پیغام سر آنکھوں پر لیکن ہمیں استطاعت نہیں، ہمیں توفیق نہیں، ہم مجبور ہیں اس لئے ہمیں چھوڑ دو۔کچھ وہ ہیں جو برابری پر رد کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں ٹھیک ہے ہم نے تمہارا پیغام سن لیا لیکن ہم اس کو قبول نہیں کر سکتے۔کچھ وہ ہیں جو تکبر اور نخوت کے ساتھ رد کرتے ہیں۔یہ محاورہ ان کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اس کا ایسا پیارا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ تکبر کرنے والوں میں سے بھی وہ جو انتہا کے متکبرین ہیں۔فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ کا مطلب یہ ہے کہ بات سن رہے ہیں اور انگلیاں منہ میں دانتوں تلے دبائی ہوئی ہیں۔اس تکبر کے اظہار کے لئے کہ ہاں تم کہتے چلے جاؤ، ہم تو تمہیں اس لائق بھی نہیں سمجھتے کہ تمہارے جواب میں دو حرف ہی کہہ دیں۔منہ سے انگلی نکالنے کی توفق نہیں پاتے اور یہ اظہار تکبر کا ایک عجیب ذریعہ ہے جس کو ہم آج تک دنیا میں رائج دیکھتے ہیں۔انسان ایک ذلیل سی چیز کو اوپر سے نیچے کی طرف بڑی حقارت سے دیکھ رہا ہے۔جیسے زمین کا کوئی کیڑا ہو اور انگلیاں دانتوں تلے دبائی ہوئی ہیں اور کہتا ہے ٹھیک ہے جو تم نے کہنا ہے وہ کہ لو اور اس تذلیل کے بعد جو اپنی طرف سے انہوں نے کر لی پھر آخر پر یہ نتیجہ نکالتے ہیں۔اِنَّا كَفَرْنَا بِمَا أُرْسِلْتُمْ بِہ ہم کھلا کھلا انکار کرتے ہیں اس چیز کا جو تمہارے پاس بھیجی گئی ہے یا جس چیز کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو۔وَإِنَّا لَفِی شَكٍّ مِمَّا تَدْعُونَنَا إِلَيْهِ هُرِیب اور ہم اس بات میں شک کرتے ہیں جس کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو۔ہم بہت ہی شک کرنے والے ہیں اس لئے اس گفتگو کو چھوڑ دو۔