خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 282 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 282

خطبات طاہر جلد ۲ 282 خطبه جمعه ۲۰ رمئی ۱۹۸۳ء وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُ والِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِ جَنَّكُمْ مِنْ أَرْضِنَا اَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا فَأَوْحَى إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظَّلِمِينَ وَلَنُسْكِنَنَّكُمُ الْأَرْضَ مِنْ بَعْدِهِمْ ۖ ذَلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِي وَخَافَ وَعِيدِ وَاسْتَفْتَحُوا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدة (ابراہیم : ۱۰-۱۶) اور پھر فرمایا: قرآن کریم کا یہ نہایت ہی پیارا اسلوب ہے کہ از منہ گزشتہ کے وہ قصے دہراتا ہے جن سے اولوالالباب نصیحت پکڑتے ہیں اور مومن کو مجادلہ کا ایسا پاکیزہ طریق سکھاتا ہے جس میں کوئی کج بحثی نہیں، کوئی جبر نہیں ، ایسی صاف اور پاکیزہ گفتگو ہے کہ اس کے نتیجہ میں اگر سنے والا متاثر ہو اور اللہ تعالیٰ کا خوف کرتے ہوئے تسلیم کرے تو اس کے لئے بہتر ہے۔اور اگر وہ نہ سننے پر اصرار کرے یا تکبر اور نخوت سے کام لے تو مومن کو اس بات کی بھی اجازت نہیں کہ اس کے مقابلہ میں کج بحثی سے کام لے کجا یہ کہ دین کے حق میں جبر کو استعمال کرے۔بڑے ہی ظالم ہیں وہ لوگ جو حضرت محمد مصطفی عملے اور ان لوگوں پر جو آپ کے ساتھ تھے جبر کا الزام لگاتے ہیں۔کیونکہ جبر کی تعلیم دینے والوں کو یا ان کو جن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے جبر کی تعلیم دی گئی ہو اس قسم کے واقعات تو نہیں سنائے جاتے جیسے قرآن کریم سناتا ہے۔ان کا تو مزاج ہی مختلف ہوتا ہے۔ان کے اندر ایک گہرا غم اور سوز پایا جاتا ہے۔از منہ گزشتہ کی ایسی دردناک کہانیاں ہیں کہ ان کو سن کر دل پگھلنے لگتے ہیں اور قرآن کریم بالآخر یہ نصیحت کرتا ہے کہ صبر کے سوا ہم تمہیں اور کوئی تعلیم نہیں دیتے۔جس طرح پہلوں نے صبر کیا تم بھی صبر کرنا تمہیں جتنے بھی دکھ دیئے جائیں سوائے صبر کے تمہیں اجازت ہی نہیں کہ کوئی اور طریق مقابلہ کا اختیار کرو اور جب تم صبر کرو گے تو صبر کے ساتھ پھر ہماری طرف جھکنا، ہم سے التجا ئیں کرنا اور ہم سے فتح مانگنا۔فرمایا پھر انہوں نے ہم سے فتح مانگی اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو غالب کر دیا یا ان قوموں کو غالب کر دیا جن کا ذکر بیان کیا جا رہا ہے۔یہ ہے خلاصہ ان آیات کے ترجمہ کا جو میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہیں۔اب میں آیات کو الگ الگ لے کر ان کے متعلق کچھ تفصیل بیان کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے