خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 212
خطبات طاہر جلد ۲ 212 خطبه جمعه ۱۸ اپریل ۱۹۸۳ء دوسرا طریق بھی چاقو چلانے کا ہی ہے مگر اس کا رخ بدل دیا گیا ہے۔غرض إِلَّا الَّذِيْنَ امَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ میں تعلیم دی گئی کہ مومن اپنے دل پر چر کے لگاتے ہیں ، خود ان لوگوں کا غم محسوس کرتے ہیں تب ان کی نصیحت میں ایک سوز پیدا ہو جاتا ہے، غم کا ایک عصر داخل ہو جاتا ہے۔اس غم کے نتیجہ میں جو اپنے دل میں ان لوگوں کے لئے محسوس کر رہے ہوتے ہیں ، ان کی نصیحت میں بڑی قوت آ جاتی ہے۔چنانچہ اس کی آخری اور انتہائی مثال قرآن کریم نے حضرت محمد مصطفی حملہ کی دی ہے۔فرمایا: لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِينَ (الشعراء : ٢) اسے نصیحت کرنے والے کیا تو ہلاک ہو جائے گا اس غم میں کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے؟ اتنا بڑھا ہوا غم ہے کہ اللہ کی پیار کی نظریں پڑ رہی ہیں کہ اے محمد ! بس کر تو خوداب اس غم میں ہلاک ہو جائے گا اتنا بڑھ گیا ہے تیرا غم ان لوگوں کے لئے جو تیری بات نہیں مان رہے۔چنانچہ جتناغم زیادہ ہو نصیحت میں اتنا ہی اثر زیادہ ہوتا چلا جاتا ہے اسی لئے آنحضور ﷺ کی نصیحت عام لوگوں کی نصیحت کی طرح نہیں تھی۔آپ کی بات میں اتنا گہرا سوز تھا، اتنی سچائی تھی، اتنا گہرا احساس تھا کہ اس کے نتیجہ میں وہ دلوں کو تبدیل کرتی چلی جاتی تھی۔پس تبدیلی کی کنجیاں رکھی گئی ہیں صبر میں تبدیلی کی کنجیاں رکھی گئی ہیں سوز و گداز میں لیکن اس بات میں نہیں کہ دوسروں کو چھ کے لگاؤ اور دوسروں کو دکھ پہنچاؤ پھر تم کامیاب ہو گے۔بالکل الٹ نتیجہ نکلتا ہے نصیحت کے ساتھ اگر آپ طعن و تشنیع کو شامل کر دیں گے تو لوگ متنفر ہونا شروع ہو جائیں گے۔بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے جب ان کی بات میں غصہ پایا جائے یا طعن پایا جائے تو بعض نمازیوں کو نماز سے بھگا دیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں جاؤ جہنم میں تم اور تمہاری نمازیں ہم نہیں پڑھتے اگر تم نے اس طرح بات کرنی ہے۔چنانچہ اس طرح ان کی پہلی تھوڑی بہت جو نیکیاں ہوتی ہیں ان سے بھی وہ محروم کر دیئے جاتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ نصیحت میں جب بھی طعن و تشنیع کا عصر پایا جائے گا اس کے پس منظر میں آپ برائی دیکھیں گے۔ایسا شخص لازما متکبر ہوتا ہے۔اگر نصیحت کرنے والے کے دل میں ریا کاری یا تکبر نہ ہو تو نصیحت میں تختی پیدا ہوہی نہیں سکتی۔پس تکبر بعض دفعہ نیکی کا تکبر ہوتا ہے ، بعض دفعہ کسی اور