خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 213
خطبات طاہر جلد ۲ 213 خطبه جمعه ۱۸ اپریل ۱۹۸۳ء چیز کا تکبر ہوتا ہے لیکن وہ خدا بنا چاہتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ میں اس کو زبردستی ٹھیک کرتا ہوں یہ ہوتا کون ہے میری بات نہ مانے والا اور اس طرح طبیعت میں تختی پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے۔وہ سمجھتا ہے اگر میری یہ بات نہیں مانے گا تو میری سبکی ہوگی یہ میرے دائرہ کار سے نکل جائے گا اور اپنا سر اٹھالے گا اور کہے گا کہ میں تمہارے قابو میں نہیں آؤں گا۔اس سے دل میں ایک غصہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کی ایسی تیسی میں اس کو ٹھیک کرتا ہوں جس طرح بھی بس چلے۔اگر جسمانی طور پر بس نہیں چلتا تو پھر کہتا ہے میں طعن و تشنیع کروں گا ، بدنام کروں گا ، ساری دنیا میں اس کا مذاق اڑاؤں گا۔کہوں گا یہ دیکھ لو اس قسم کا آدمی ہے۔اس طرح اپنے دل کو ٹھنڈا کرتا ہے آخر دل میں کوئی آگ تھی تو اس کو ٹھنڈا کیا۔دراصل یہی وہ آگ ہے جو تکبر کی آگ ہے جو دلوں میں نفرتیں پیدا کرتی ہے اور جس کے دل میں یہ آگ سلگتی ہے اس کو تو جلا کے رکھ دیتی ہے لیکن اس کے نتیجہ میں کبھی کوئی پاک تبدیلی نہیں پیدا ہوئی۔پھر تکبر اس وجہ سے بھی ہوتا ہے کہ بعض نیکیاں دماغ کو چڑھ جاتی ہیں۔مثلاً ایک آدمی نے داڑھی رکھی ہوئی ہے جب وہ بغیر داڑھی والے لوگوں کو دیکھتا ہے تو اس کو غصہ آ جاتا ہے۔وہ کہتا ہے دیکھو! میں نے ایک ایسی نیکی کر لی ہے کہ اب یہ مجھ پر اعتراض نہیں کر سکتا اس لئے وہ ہر اس شخص کو نفرت کی آنکھ سے دیکھ رہا ہوتا ہے اور اس کی بہت ہی تذلیل کر رہا ہوتا ہے جس نے داڑھی نہیں رکھی ہوتی۔ایک آدمی نماز کا عادی ہے تو وہ بے نمازیوں کی تذلیل کر رہا ہوتا ہے ایک آدمی سچ بولنے کا عادی ہے تو وہ جھوٹوں کی تذلیل کر رہا ہوتا ہے اور یہ نہیں دیکھتا کہ خود اس کے اپنے اندر کتنے نقائص ہوں گے جو بعض دوسروں میں نہیں ہیں اور کتنی کمزوریاں ہوں گی جو خدا کے علم میں ہیں خواہ بندوں کے علم میں نہ بھی ہوں تب بھی یہ اس کی ذات میں موجود ہیں۔تو انکسار کی بجائے جب وہ دوسروں کی کمزوریاں اور اپنی نیکیاں دیکھتا ہے تو اس کے اندر ایک تکبر پیدا ہو جاتا ہے اور جس شخص میں بھی یہ پیدا ہو جاتا ہے وہ اصلاح احوال کے قابل نہیں رہا کرتا کیونکہ تکبر کے نتیجہ میں منہ سے نکلی ہوئی بات متنفر تو کیا کرتی ہے وہ سچائی کی طرف دلوں کو کھینچ کر نہیں لایا کرتی۔پھر نصیحت کرنے والے میں تو ایک غیر معمولی جذب ہونا چاہئے ، ایسا جذب جس سے کوئی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور کشاں کشاں اس کی طرف کھنچا چلا آئے۔یہ قوت جاذ بہ ہمیشہ ہمدردی کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا دکھ کے نتیجہ میں اس کونشو ونما ملتی ہے۔