خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 211 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 211

خطبات طاہر جلد ۲ 211 خطبه جمعه ۱۸ اپریل ۱۹۸۳ء ہیں اور پھر ان کے مطالبے اتنے سخت ہوتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو یا تو جماعت سے خارج کر دیا جائے یا فوری طور پر ان کے مقاطعہ کا اعلان کر دیا جائے یا جس قدر بھی ممکن ہو سکے دوسری سزائیں دی جائیں۔بعض لوگوں کی طرف سے عجیب و غریب خط آتے ہیں۔لکھتے ہیں تمبا کو پینے والے سگریٹ نوشی کرنے والے اور پان میں تمبا کو کھانے والے جتنے لوگ ہیں ان سب کی وصیتیں فوری طور پر منسوخ کر دی جائیں اور ان کو کسی بھی جماعتی عہدہ کا حق دار قرار نہ دیا جائے اور نہ ان کو جماعتی عہدہ کے لئے ووٹ دینے کا حق ہو بلکہ اگر لکھنے والے کا بس چلے تو وہ یہ بھی لکھ دے کہ ان کو زندہ رہنے کا بھی حق نہ دیا جائے۔نصیحت اور اصلاح کا یہ ایک حیرت انگیز تصور ہے جس کا قرآن کریم میں کوئی بھی ذکر نہیں ملتا۔چنانچہ اس قسم کے تشدد پسندانہ خیالات پر جب میں ایسے لوگوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ دیکھو! اصلاح احوال اس طرح نہیں ہوا کرتی۔آخر تم اپنی زبان بند کیوں رکھتے ہو؟ تم کیوں ان لوگوں کے پاس نہیں پہنچتے اور ہمدردی سے ان کے اندر تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتے ؟ اور جب میں توجہ دلاتا ہوں کہ دعا کرو اور دعا کے ذریعہ اللہ سے مدد مانگو تب یہ حالات تبدیل ہوں گے تو آگے سے یہ جواب دیا جاتا ہے کہ ہم ایسی دعاؤں کے قائل ہی نہیں۔ایسے لوگوں کے متعلق میں اس کے سوا اور کیا کہ سکتا ہوں کہ اگر تم ایسی دعاؤں کے قائل ہی نہیں جو پاک تبدیلیاں پیدا کرتی ہیں تو تمہارا اس رسول سے کوئی تعلق نہیں ہے جس نے دعاؤں کے ذریعہ پاک تبدیلیاں پیدا کیں۔تمہارا اس رسول کے کامل غلام حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام سے کوئی تعلق نہیں ہے جس کا تربیت کے معاملہ میں سب سے زیادہ زور دعاؤں پر تھا۔پھر ایسی جماعت میں بیٹھے تم کیا کر رہے ہو۔یہ جماعت تو دعا گولوگوں کی جماعت ہے، یہ تو صبر کرنے والوں کی جماعت ہے، یہ نصیحت کرنے والوں کی ایسی جماعت ہے جن کا دل غم سے گھل رہا ہوتا ہے تب وہ نصیحت کرتے ہیں اور ان کی نصیحت میں کوئی طعن نہیں ہوتا ، لوگوں کے دلوں کو کوئی چر کا نہیں لگاتے بلکہ صبر سے نصیحت کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دوسروں کو دکھ نہیں پہنچاتے ہاں اپنے دل کو دکھ دیتے ہیں تب ان کی نصیحت کامیاب ہوتی ہے۔بالکل الٹ مضمون ہے ایک طرف نصیحت کرنے والے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ نصیحت کے ساتھ جب تک چاقو نہ چلائے جائیں ، جب تک دلوں کو کچوکے نہ دیئے جائیں اس وقت تک نصیحت کامیاب نہیں ہوسکتی۔