خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 198
خطبات طاہر جلد ۲ 198 خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۸۳ء یہ ہوا کرتی ہے کہ اسے اچھے برے کی تمیز نہ رہے۔اس کو اپنے حقیقی مقصد اور فائدے کا علم نہ ہو اور اسی کا نام پاگل پن ہے۔اس کے سوا پاگل پن کی کوئی تعریف بنتی ہی نہیں۔ہر وہ شخص جو اپنے مفاد کے متعلق نہ جان سکے کہ میرا اصل مفاد کس بات میں ہے، وہ ایسی باتیں کرتا ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ پاگل ہو گیا ہے۔کوئی اپنی جائیداد ضائع کر دے یا کوئی ایسی بات کرے کہ لوگ کہیں بے ہودہ حرکت کر رہا ہے اور لوگوں کے سامنے بدنام ہو رہا ہوتو وہ بھی پاگل ہے۔الغرض ہر بات میں پاگل پن کا خلاصہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے مفاد سے بے خبر ہو جائے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَأَنَسهُم اَنْفُسَهُمْ وہ ان لوگوں کو پاگل کر دے گا اور ان کو اپنی بھی ہوش نہیں رہے گی۔ان کو پتہ نہیں ہو گا کہ کس چیز میں ہمارا فائدہ ہے اور کس میں نہیں ؟ اس لئے کہ اللہ جو ہر بات کا آخری Reference ہے اس کو انہوں نے بھلا دیا۔اگر خدا سے تعلق جوڑ کر راہ نمائی حاصل نہ کی جائے تو نہ فرد اپنی راہنمائی کے اہل ہوتے ہیں نہ تو میں اپنی راہنمائی کی اہل ہوتی ہیں۔ساری دنیا میں تباہیوں کا جو نقشہ نظر آرہا ہے اس کی وجہ خدا سے لاتعلقی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں کبھی کوئی قوم اپنی عقل پر انحصار کر کے زندہ نہیں رہ سکتی۔محض عقل پر انحصار کر کے لوگ ایسی خوفناک غلطیاں کرتے ہیں کہ خود بھی ڈوبتے ہیں اور دوسروں کو بھی لے ڈوبتے ہیں۔پس فرمایا فَأَنْسَهُمْ أَنْفُسَهُمْ جب بھی لوگ خدا سے غافل ہوئے اور اس کی عبادت کا حق ادا کرنا چھوڑ دیا تو نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ نے ان کو پاگل کر دیا کیونکہ انہوں نے عقل اور رشد کے سرچشمے سے منہ موڑ لیا۔پاگل کر دیا“ کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے ایسا فعل کیا جس کے نتیجہ میں وہ لازماً اپنی عقلوں کو کھو بیٹھے، احمق بن گئے ، بیوقوف ہو گئے۔الغرض خدا کی عبادت سے غافل ہونے کی ایک یہ سزا بھی بیان فرمائی۔حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے بچوں کی عبادت کا خیال نہیں کرتے ان کی اولادیں لازماً ہلاک ہو جایا کرتی ہیں اس لئے وہ اس طرف توجہ کریں اور اپنی اولا د کو اپنے ہی ہاتھوں سے قتل نہ کریں۔الغرض اللہ تعالیٰ نے مختلف رنگ میں نصیحت فرمائی ہے اور بچوں کی تربیت کی طرف توجہ دلائی ہے۔اس معاملے میں اگر چہ مردوں کو پابند کیا گیا ہے لیکن اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ جب مرد با ہر ہوتا ہے تو عورت اس کی جگہ لے لیتی ہے اور اس پر بھی تربیت کی ایک بڑی بھاری