خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 197 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 197

خطبات طاہر جلد ۲ 197 خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۸۳ء پس محبت اور پیار سے سمجھا ئیں لیکن کوشش کریں کہ ایک بھی آدمی ضائع نہ ہو۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے سلسلے کو تو کارکن مل ہی جائیں گے بلکہ بہتر ملیں گے لیکن وہ کارکن جنہوں نے ایک لمبا عرصہ سلسلے سے تعلق رکھا ہے ہم ان کو کیوں ضائع ہونے دیں۔ہمارا فرض ہے کہ پوری کوشش کریں اور ان کو بچائیں۔ایک ایک احمدی بنانے کے لئے ہم کتنی محنت کرتے ہیں تو جو پہلے سے موجود ہوں اور مرکز کے بہت قریب آئے ہوں اور جن کو سلسلہ کی خدمات کی توفیق ملی ہو ان کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہئے اس لئے اس معاملے میں بے اعتنائی نہیں کرنی۔ہر افسر کا فرض ہے کہ اگر کارکن اور ذرائع سے بات نہیں سنتا تو اپنے پاس بلائیں ، محبت اور پیار کے ساتھ اس کو سمجھا ئیں اور جہاں تک ممکن ہو ے سلسلے کے ہر کارکن کو ضائع ہونے سے بچانے کی کوشش کریں۔دوسرا پہلو یہ ہے کہ ایسے کارکنان کی اولادیں نماز سے غافل ہو رہی ہیں۔ہر صورت میں تو نعوذ باللہ ایسا نہیں ہے لیکن اگر سلسلے کے دس فیصدی کارکن بھی ایسے ہوں جن کی اولادیں نماز سے غافل ہیں تو یہ بڑی خطرناک بات ہے اور میرے نزدیک ایسے کارکنان کے بچوں کی تعدا د جو عملاً نماز سے غافل ہو چکے ہیں اس سے زیادہ ہے اس لئے ان کی طرف بھی توجہ دینا ضروری ہے۔نظام جماعت کو ان کے بچوں کو سنبھالنے میں ایسے کارکنوں کی مدد کرنی چاہئے لیکن اصل میں تو گھر ہی تربیت کا گہوارہ ہے اور گھر کے معاملے میں آنحضرت علﷺ کی تعلیم یہ ہے کہ باپ اپنی اولا د کا ذمہ دار ہے۔قرآن کریم نے مختلف رنگ میں بڑے ہی گہرے اثر کرنے والے انداز میں اس مضمون کو پھیر پھیر کر بیان فرمایا ہے۔کہیں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی مثال دی کہ وہ کس طرح صبح اٹھ کر با قاعدہ اپنے گھر والوں کو نماز کی تعلیم دیا کرتے تھے۔وہ بڑے صبر کے ساتھ اس پر قائم رہے اور ساری زندگی اس کام سے تھکے نہیں۔کہیں یہ فرمایا: وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللهَ فَأَنْسُهُمْ أَنْفُسَهُمْ أوليكَ هُمُ الْفَسِقُونَ ) (الحشر : ٢٠) کہ دیکھو! ان بدقسمتوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے ایک دفعہ اللہ کو یاد کیا اور پھر اسے ہمیشہ کے لئے بھلا دیا فانسهُم اَنْفُسَهُم پس اللہ نے ان کو خود اپنے آپ سے بھلوا دیا۔ان کو اپنے نفوس کی اور اپنے اموال کی خبر نہ رہی ، ان کو اچھے برے کی تمیز نہ رہی۔انسان کے لئے سب سے بڑی ہلاکت