خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 199
خطبات طاہر جلد ۲ 199 خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۸۳ء ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔مرد کو اس لئے ذمہ دار قرار دیا ہے کہ اسے عورت پر قوام بنایا گیا ہے۔اگر عورت کو ذمہ دار بنایا جاتا تو مرد اس ذمہ داری سے باہر رہ جاتے۔مرد کو ذمہ دار بنایا تا کہ صرف بچے ہی اس کے تابع نہ رہیں بلکہ عورت بھی تابع رہے اور مرد اس کو بھی پابند کرے اور اس طرح سارا نظام تربیت کے دائرے کے اندر جکڑا جائے۔جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے۔میرا تاثر یہ ہے کہ جو مائیں بے نماز ہوتی ہیں ،اگر باپ کوشش بھی کریں تب بھی ان کی کوشش اتنا اثر نہیں رکھتی جتنا اس صورت میں کہ جب مائیں نمازی ہوں اسی لئے قرآن کریم مردوں کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ سب سے پہلے اپنی عورتوں کی حفاظت کرو اور ان کوتر بیت دو۔چنانچہ حضرت اسماعیل علیہ السلام والی مثال میں بچوں کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ یہ فرمایا کہ وہ اپنے خاندان کے ہر فرد کو نماز کی تعلیم دیتے تھے۔آنحضرت ﷺ کا بھی یہی طریق تھا کہ آپ اپنی بیویوں کو نماز کے لئے اٹھاتے تھے ، پھر بچوں اور دامادوں کو بھی جگایا کرتے تھے۔چنانچہ حضرت علی کرم اللہ وجہ کے متعلق آتا ہے کہ حضور ان کے ہاں گئے اور فرمایا اٹھو، نماز کا اور عبادت کا وقت ہو گیا ہے۔( صحیح بخاری کتاب الجمعۃ باب تحریص السمى على صلوة الليل ) پس ہمیں بھی اپنے گھروں میں یہی اسوہ زندہ کرنا پڑے گا۔مرد اپنی بیویوں کو نماز کا پابند کریں اور ان سے یہ توقع رکھیں کہ جب وہ خود گھر پر نہ ہوں تو عورتیں ان کے نائب کے طور پر بچوں کی نمازوں کی حفاظت کریں گی۔اگر گھروں میں نمازوں کی فیکٹریاں نہ بنیں تو پھر جماعتی تنظیم کی کوششیں پوری طرح کارآمد نہیں ہو سکتیں۔خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کو ان بچوں کے لئے بہت محنت کرنی پڑتی ہے جن کے والدین نماز سے غافل ہوتے ہیں۔ہزار کوشش کے بعد ان کو وہ پھل ملتا ہے جو گھر میں والدین صرف چند کلمات کے ذریعہ حاصل کر سکتے ہیں۔جب دیکھیں کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے تو بچے کو بتا ئیں اور نماز کے لئے کہیں چنانچہ لجنہ اماءاللہ کی طرف سے ماؤں کو تاکید ہونی چاہئے اور خاوندوں کی طرف سے بیویوں کو تاکید ہونی چاہئے کہ وہ اس کام میں مدد کریں اور اپنی اولا دکو بچانے کی کوشش کریں۔اگر ہم ساری دنیا میں یہ کام کرنے میں کامیاب ہو جائیں اور احمدیوں کی بھاری اکثریت نماز پر اس طرح قائم ہو جائے کہ جہاں باجماعت نماز پڑھی جاسکتی ہے وہاں لازماً با جماعت نماز