خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 166
خطبات طاہر جلد ۲ 166 خطبه جمعه ۱۸ / مارچ ۱۹۸۳ء تھا کہ میں مرکر واپس جا سکتا ہوں اس کے سوامیدان جنگ سے ملنے کا کوئی اور رستہ نہیں۔پس وہ لوگ جوموت کا ارادہ کر کے مرمٹنے والوں کی شکل میں نکلے ہوں ان کو دنیا میں کوئی ہلاک نہیں کر سکتا انسان کی تلوار ان کو ہلاک نہیں کر سکتی کیونکہ ان کے اپنے ضمیر کی آواز ان کو ختم کر چکی ہوتی ہے، ان کا اپنا اندرونی فیصلہ ان کو مار چکا ہوتا ہے اس لئے اس اینچی نے کہا کہ تم ان موتوں پر فتح نہیں پاسکتے ، یہی موتیں تمہیں ہلاک کریں گی چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اس اندازہ لگانے والے کا اندازہ کتنا صحیح تھا اور وہ کتنا ذہین انسان تھا۔(الطبقات الکبری جلد ۲ صفحہ ۶ باب غزوۃ البدر ) اور یہ وہ تقدیر ہے جو ہمیشہ سے جاری ہے اور اس کا لازمی نتیجہ وہ ہے جو ابھی میں نے بیان کیا ہے۔جب بھی الہی جماعتیں اپنے پہلے عہد میں ہی اپنا سب کچھ خدا کے حضور پیش کر دیتی ہیں اور اپنا کچھ بھی نہیں رہنے دیتیں، ان کو کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔یہ وہ کنگال ہیں جن پر دنیا کے عظیم ترین اور متمول انسان بھی فتح نہیں پاسکتے ، یہ وہ نہتے ہیں جن پر دنیا کی سب سے زیادہ مسلح اور ہتھیار بند قو میں بھی فتح نہیں پاسکتیں کیونکہ ان کے مقدر میں شکست باقی نہیں رہتی اور اللہ تعالیٰ اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ شکست ان کے نصیب میں نہیں لکھی جائے گی۔یہ تو ایک دنیا دار لیکن ذہین انسان کا فیصلہ تھا کہ ایسی قومیں جو پہلے ہی سب کچھ فدا کر کے نکلی ہوں کبھی شکست نہیں کھایا کرتیں جس طرح طارق نے کشتیاں جلائی تھیں تو دنیا کے مفکرین نے یہ سمجھا کہ کشتیاں جلانے کے نتیجے میں اسے فتح نصیب ہوئی تھی لیکن اہل اللہ کے لئے ایک اور تقدیر بھی کام کرتی ہے اور ان کے حق میں جاری ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت ان کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتی۔وہ اس یقین کامل کے ساتھ زندہ رہتے ہیں کہ ہم سب کچھ اپنے خدا کو دے چکے ہیں اور ہمارا خدا بھی اپنا سب کچھ ہمیں دے چکا ہے۔ہمارے اموال اب سانجھے ہو چکے ہیں۔جو کچھ ہمارا ہے وہ خدا کا ہو چکا ہے لیکن جو کچھ خدا کا ہے وہ بھی ہمارا ہو چکا ہے اور جس قوم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی قوت اور اس کے غلبہ کی تقدیر شامل ہو جائے اسے دنیا میں کون شکست دے سکتا ہے اس لئے اس یقین کامل کے ساتھ وہ قوم زندہ رہتی ہے اور یہ یقین ہمیشہ سچا نکلتا ہے۔آدم سے لے کر حضرت محمد مصطفی علی اللہ کے زمانے تک اور پھر اس زمانے میں اپنی تاریخ کا مطالعہ کر کے دیکھ لیں کس دن خدا نے اپنے ان کمزور بندوں کو اکیلا چھوڑا ہے؟ کس دن خدا نے اجازت دی ہے کہ دنیا والے ان نسبتے درویشان الہی