خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 165
خطبات طاہر جلد ۲ 165 خطبه جمعه ۱۸ / مارچ ۱۹۸۳ء ہمارا کچھ بھی نہیں رہا۔جو کچھ بظاہر ہمارا ہے یہ اس وقت تک ہمارا ہے جب تک خدا کی تقدیر اسے بخوشی ہمارے پاس رہنے دیتی ہے۔جب خدا کی تقدیر کی یہ رضا ہوگی کہ یہ ہمارے پاس نہ رہے تو ہماری رضا بھی یہی ہوگی کہ یہ ہمارے پاس نہ رہے۔یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (یونس: ۶۳) جولوگ سب کچھ پہلے ہی دے بیٹھے ہوں ان کو کوئی خوف ہو ہی نہیں سکتا۔ہاں اگر نیت میں کھوٹ ہو اور انسان نے واقعتہ نہ دیا ہو بلکہ صرف زبانی طور پر منہ کی باتوں کے لحاظ سے دیا ہو تو ایسا انسان ہمیشہ ترساں ولرزاں رہتا ہے کہ کہیں واقعتہ یہ قربانی دینی نہ پڑ جائے لیکن جو پختہ ارادے کے ساتھ اپنے رب سے ایک سودا کرتے ہیں وہ لازماً خوف سے آزاد کئے جاتے ہیں اور ان کو تو کل کے ایک اعلیٰ مقام پر کھڑا کر دیا جاتا ہے۔چنانچہ اس کا سب سے دلکش اور حسین نظارہ دنیا نے جنگ بدر کے موقع پر دیکھا جب کفار مکہ کا ایک ایچی مسلمانوں کے کیمپ کا جائزہ لینے کے لئے آیا تو اس نے واپس جا کر ایک رپورٹ پیش کی۔اس نے کہا کہ میں وہاں کچھ لنگڑے دیکھ کر آیا ہوں، کچھ کمز ور دیکھ کر آیا ہوں، کچھ بوڑھے دیکھ کر آیا ہوں، کچھ بچے دیکھ کر آیا ہوں، کچھ ایسے لوگ دیکھ کر آیا ہوں جن کا اوپر کا بدن ننگا ہے کچھ ایسے دیکھ کر آیا ہوں جن کے ہاتھ میں لکڑی کی تلواریں ہیں اور کچھ ایسے دیکھ کر آیا ہوں جن کے پاس ٹوٹے پھوٹے ہتھیار ہیں پھر ان کی تعداد بھی تمہارے مقابل پر بہت کم ہے یعنی صرف ۳۱۳۔وہ باتیں کر رہا تھا اور سننے والے خوش ہورہے تھے کہ یقینی فتح کی خوشخبری دی جا رہی ہے لیکن دیکھنے والے نے کچھ اور نتیجہ نکالا۔اس نے کہا کہ میں یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد تمہیں واپس جانے کا مشورہ دیتا ہوں، تمہارے مقدر میں یقیناً شکست لکھی گئی ہے۔کفار مکہ کے سرداروں نے بڑے تعجب سے اس سے سوال کیا کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ تم باتیں کچھ اور کر رہے ہو اور نتیجہ کچھ اور نکال رہے ہو۔اس نے کہا میں بالکل ٹھیک نتیجہ نکال رہا ہوں کیونکہ میں نے وہاں تین سو تیرہ (۳۱۳) زندہ نہیں دیکھے، تین سو تیرہ موتیں دیکھی ہیں جو تمہارے مقابل پر نکلی ہیں۔ان میں سے ہر ایک کے چہرے پر یہ عزم لکھا ہوا