خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 164
خطبات طاہر جلد ۲ 164 خطبه جمعه ۱۸ / مارچ ۱۹۸۳ء وہ صاحب شریعت نبی تھا یا غیر شارع تابع نبی تھا ، ایک واقعہ ایسا ہے جو ضر ور رونما ہوا ہے اور وہ یہ کہ تمام دنیا نے ماننے والوں کو تباہ و برباد کرنے کی ہر کوشش کی ہے ، تمام دنیا نے پورا زور لگایا ہے کہ الہی سلسله کو نیست و نابود کر دے اور اس ضمن میں جواز اور عدم جواز کی ساری بحثیں چھوڑ دی گئی ہیں بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ان سلسلوں کو مٹانے کے لئے جتنی بھی کوششیں کی گئی ہیں وہ ساری کی ساری ناجائز ہیں ایک بھی جائز کوشش نہیں کی گئی کیونکہ حق کو مٹانے کے لئے کوئی وجہ جواز ہے ہی نہیں۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے بلند ہونے والی آواز کو نیست و نابود کرنے کے لئے عقلاً کوئی جائز وجہ ہو ہی نہیں سکتی جبکہ وہ آواز صرف یہ کہہ رہی ہو کہ ہم نے اللہ کی طرف سے ایک منادی کی آواز کو سنا اور امنا کہہ دیا اور اب ہم تمہیں بھی اسی کی طرف بلاتے ہیں۔یہ آواز اتنی معصوم اور اتنی بے ضرر ہے کہ اس کو مٹانے کے لئے کسی کے پاس کوئی جائز وجہ نہیں ہوسکتی اس لئے طبعی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جھوٹ اور فساد اور فتنے اور تمام نا جائز ہتھیاروں کو استعمال کر کے ان سلسلوں کو مٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔یہ ایک ایسی تقدیر ہے جو ایک طرف تمام الہی سلسلوں کو لاحق ہے اور دوسری طرف ان کی سچائی کا اعلان کر رہی ہوتی ہے اور تیسری طرف اس بات کی بھی ضمانت دیتی ہے کہ ان میں صرف بچے ہی داخل ہوں گے کیونکہ جھوٹوں کو یہ توفیق نہیں ہو سکتی کہ کسی بات کو قبول کرنے کے لئے ادنی سی بھی قربانی کریں۔بڑے مرد میدان کا کام ہوتا ہے کہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھے اور پھر آگے قدم بڑھائے اس لئے وہ سلسلے جن کے ارد گر د خدا کی تقدیر آگ کی ایک دیوار کھڑی کر دیتی ہے ان میں صرف وہی داخل ہونے کی جرات کرتے ہیں جنہوں نے ابراہیمی صفات سے ورثہ پایا ہو۔وہ ابراہیمی صفات اس بات کی بھی ضامن ہوا کرتی ہیں کہ اس آگ کو گلزار بنا دیا جائے۔یہ ایک ایسی تقدیر ہے جو جماعت احمدیہ کے ساتھ بھی ایک اٹل تقدیر کے طور پر ہمیشہ جاری رہے گی۔اس جماعت میں کمزور دلوں کا کام نہیں اس جماعت میں ان لوگوں کا کوئی کام نہیں جو اپنے رب پر تو کل نہیں رکھتے اور جو خدا کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دینے کے لئے دل و جان سے آمادہ نہیں ہیں، اس جماعت میں تو صرف وہی لوگ آئیں گے اور وہی رہ سکتے ہیں کہ جنہوں نے داخل ہوتے وقت یہ فیصلہ کر لیا تھا یا تجدید بیعت کے وقت ذہنی طور پر ارادہ کر چکے تھے کہ ہم نے اپنی جانیں ،اپنے اموال، اپنی عزتیں، اپنی آبرو اور اپنے عزیز ترین اقربا کو بھی اللہ کے ہاتھ پر بیچ دیا ہے اور اب