خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 161
خطبات طاہر جلد ۲ 161 خطبه جمعه ۱۸ / مارچ ۱۹۸۳ء آج تک تو اس حق کو استعمال نہیں کیا گیا۔نصیحت کی گئی اور سمجھایا گیا، مگر یہ ضرورت نہیں سمجھی گئی کہ اس حق کو استعمال کیا جائے لیکن جس تیزی کے ساتھ سلسلے کی ضروریات بڑھ رہی ہیں ان کے پیش نظر اب وہ وقت آگیا ہے کہ جماعت مجبوراً اس حق کو استعمال کرے۔کسی کا کوئی حق نہیں ہے کہ خالی جگہوں پر قبضہ کر کے بیٹھا رہے اور وہ کسی کام نہ آ رہی ہوں۔۱۹۴۹/۵۰ء میں جو جگہیں الاٹ کی گئی تھیں ان پر اب چونتیس سال گزر چکے ہیں۔یہ عرصہ کوئی معمولی عرصہ تو نہیں ہے اس لئے اگر وہ مکان نہیں بنا سکتے تو جگہ چھوڑ دیں۔ہماری اور بھی بہت سی ضروریات ہیں اور کچھ نہیں تو یہ جگہیں بیوت الحمد کے ہی کام آئیں گی۔بہت سے غربا ہیں جو بیچارے مکانوں سے محروم ہیں ان کو یہ جگہیں الاٹ کر دی جائیں گی اور چونکہ ستی قیمت پر دی گئی تھیں اس لئے اب بھی سستی قیمت پر دی جاسکتی ہیں۔پس جو دوست بھی ان جگہوں کے فرضی مالک بنے بیٹھے ہیں ان کو میں چھ مہینے دیتا ہوں۔فرضی مالک اس لئے کہ حقیقی مالک تو وہ رہے نہیں شرائط کے مطابق ان کا حق ملکیت ختم ہو چکا ہے ) اس مدت کے اندر یا تو وہ مکان کی تعمیر شروع کرا دیں یا جماعت کے سامنے اپنی وجہ جواز پیش کر کے اجازت حاصل کریں کہ چھ مہینے کے اندر ہمارے لئے تعمیر شروع کرنا ممکن نہیں ہے اس لئے اگر ہمیں مزید اتنی مدت مل جائے تو ہم مکان بنانا شروع کر دیں گے۔اگر وہ ان دونوں میں سے کوئی صورت بھی اختیار نہ کریں تو پھر ان کو اس فرضی ملکیت سے بھی ہاتھ دھونے پڑیں گے اور جماعت یہ ملکیت کسی ایسے شخص کو منتقل کر دے گی جو جلدی مکان بنانے کی ضمانت دے گا۔جو بلی کے جلسہ میں اب صرف چند سال رہ گئے ہیں اور تعمیر کے کام ایسے ہیں جو وقت لیتے ہیں۔اگر چھ مہینے میں صرف ایک دوکوٹھڑیاں ہی بنائی جائیں تو پھر انہوں نے مزید وسعت اختیار کرنی ہوتی ہے اس لئے چند سال لازما تعمیر کے کاموں پر لگ جاتے ہیں۔بہر حال ہمیں جلد از جلد تعمیر کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔جہاں تک تعمیر کا تعلق ہے ایسے مالکان جن کو اس وقت زیادہ روپیہ خرچ کرنے کی توفیق نہیں ہے ان کی دو طرح سے مدد کی جاسکتی ہے۔اول تو یہ کہ وہ اپنے مسائل جماعت کے سامنے پیش کریں اور مشورہ مانگیں کہ ان مسائل کو کس طرح حل کیا جا سکتا ہے؟ جہاں تک جماعت کے وسائل ہوئے اور توفیق ہوئی انشاء اللہ تعالیٰ ایسے معاملات میں جو واقعی اپنے اندر وجہ جواز رکھتے ہوں نرمی بھی