خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 160
خطبات طاہر جلد ۲ 160 خطبه جمعه ۱۸ / مارچ ۱۹۸۳ء محض اللہ اپنے گھروں میں ایسے کمروں کا اضافہ کریں جو خالصتہ جلسہ سالانہ کے مہمانوں کی خاطر ہوں اور جہاں تک ممکن ہو ان کے ساتھ غسل خانے وغیرہ بھی ایسے بنائیں کہ جہاں زیادہ سے زیادہ مہمان آسانی کے ساتھ اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔اگر اس نیت کے ساتھ ربوہ کے ہر گھر میں کچھ کمروں کا اضافہ ہو جائے تو اس سے ایک غیر معمولی سہولت مہیا ہو جائے گی۔دوسری بات جو بہت ہی ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ربوہ میں جو خالی پلاٹ پڑے ہوئے ہیں ان پر مکان تعمیر کئے جائیں۔میں نے جب جائزہ لیا تو یہ معلوم کر کے مجھے بہت تعجب ہوا کہ ابھی تک پلاٹوں کی بہت بڑی تعداد خالی پڑی ہے۔اگر ان کو آباد کیا جائے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ساتھ مزید کمرے بھی بن جائیں تو بہت محفوظ اور محتاط اندازے کے مطابق ہمارے مہمانوں کو موجودہ جگہ سے تین گنا زیادہ جگہ مہیا ہو سکتی ہے بلکہ شاید اس سے بھی بڑھ جائے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جو آج مہمان بنے ہوئے ہیں ان میں بہت سے ایسے ہیں جن کے یہاں خالی پلاٹ موجود ہیں۔وہ بجائے اپنا مکان بنا کر اس میں ٹھہرنے کے کسی اور کے گھر ٹھہرتے ہیں۔اگر وہ اپنا مکان بنالیں تو اپنی ضرورت سے زائد کمرے دوسرے مہمانوں کے سپرد کر سکتے ہیں۔اگر ہم بیرونی نئی آبادیوں کو شامل کرلیں تو ایک اور دو کی نسبت سے خالی پلاٹ پڑے ہوئے ہیں۔ان نئے مکانوں میں زیادہ مہمان اس لئے سا سکیں گے کہ خالی پلاٹوں کے بہت سے مالک ایسے دوست ہیں جو باہر رہتے ہیں اور خود ہر سال جلسہ پر نہیں آ سکتے اس لئے اگر وہ مکان بنائیں گے تو لازماً وہ جلسہ کے مہمانوں کے کام آئیں گے۔ان سارے امور کو مد نظر رکھتے ہوئے میرا اندازہ ہے کہ انشاء اللہ مہمانوں کی تعداد تین گنا بڑھ سکتی ہے یعنی تین گنا بڑھی ہوئی تعداد کے لئے جگہ کی سہولتیں مہیا ہو سکتی ہیں۔جہاں تک خالی پلاٹوں کے مالکان کے حق ملکیت کا تعلق ہے دراصل ان کا کوئی شرعی یا اخلاقی یا قانونی حق ان پلاٹوں پر باقی نہیں رہا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ان کو جماعت کی طرف سے پلاٹ دیئے گئے تھے تو اس معاہدے کے ساتھ دیئے گئے تھے کہ اگر تم چھ مہینے کے عرصے میں ان پر مکان تعمیر نہیں کرو گے ، خواہ وہ چھوٹا سا ہی کیوں نہ ہو، تو تم اپنا حق ملکیت کھو بیٹھو گے اور جماعت کو یہ حق حاصل ہوگا کہ جس قیمت پر تم نے یہ پلاٹ خریدے ہیں وہ قیمت واپس دے کر یہی پلاٹ پھر کسی اور کو اس قیمت پر یا کسی اور قیمت پر دے دے۔