خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 162
خطبات طاہر جلد ۲ 162 خطبه جمعه ۱۸ / مارچ ۱۹۸۳ء کی جائے گی اور راہنمائی بھی کی جائے گی اور جہاں تک ممکن ہوامد دبھی کی جائے گی۔دوسرا پہلو ہے ستے مکان تعمیر کرنے کے لئے انتظامات کرنا۔اس سلسلے میں کچھ کام تو ایسے ہیں جو پہلے ہی شروع کئے جاچکے ہیں۔کراچی میں ہمارے ایک احمدی انجینئر سید غلام مرتضی شاہ صاحب ہیں انہوں نے مشرقی پاکستان میں ایسے ستے مکان بنانے کا ایک منصوبہ شروع کیا تھا جو سیمنٹ اور پکی اینٹوں کے بغیر تیار کئے جاتے ہیں لیکن ان کے اندر Staying Power یعنی باقی رہنے کی اتنی طاقت ہے کہ وہ مشرقی پاکستان کے سیلابوں کو بھی برداشت کر گئے اور وہاں کی بارشوں سے بھی متاثر نہ ہوئے حالانکہ ان میں سیمنٹ وغیرہ استعمال نہیں ہوا تھا۔مکرم شاہ صاحب بہت معمر ہو چکے ہیں اور چلنا پھرنا بھی مشکل ہے مگر ذہن ماشاء اللہ بہت روشن ہے۔وہ تکلیف اٹھا کر ملاقات کے لئے تشریف لائے ان سے تمام پہلوؤں پر گفتگو ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ ان مکانوں پر دو منزلیں بھی بنائی گئی ہیں اور وہ ٹھیک ہیں۔جہاں جہاں وہ مکان بنے ہیں آج تک موجود ہیں۔ان کی تحقیق اور جائزہ کے لئے انجینئر مقرر کئے جاچکے ہیں۔مکان بنانے کی یہ ٹیکنیک اگر مزید Develop کی جائے اور اسے مزید ترقی دی جائے تو اینٹوں کا خرچ نصف سے بھی کم بلکہ ایک تہائی رہ جاتا ہے۔اس کے علاوہ ایسے مکان گرمیوں میں بہت ٹھنڈے اور بہتر رہیں گے۔اسی طرح یہ جائزہ بھی لیا جا رہا ہے کہ ستی چھتیں جو دیر پا بھی ہوں اور ہمارے ملک کے موسم گرما کے لحاظ سے ٹھنڈی رہنے والی بھی ہوں وہ کس طرح بنائی جا سکتی ہیں۔چنانچہ ہمارے احمدی انجینئر ز نے اس سلسلے میں بھی کام شروع کر دیا ہے۔علاوہ ازیں بعض ایسی کمپنیاں بھی علم میں آئی ہیں جو بہت تیز رفتاری کے ساتھ وسیع پیمانے پر مکان بنا کر دیتی ہیں۔اگر ان سے ٹھیکہ کیا جائے تو وہ آٹھ سو مربع فٹ کا مکان چھہتر سے اسی ہزار روپے میں بنا دیں گی اور عام غریبانہ ضروریات کے لئے پانچ سو مربع فٹ کا مکان بھی کافی ہوسکتا ہے۔کمروں کی ساخت ایسی ہو کہ ایک کمرے میں سارا گھر سمٹ جائے اور جلسہ کے مہمانوں کے لئے ایک وسیع کمرہ بنایا جائے جس کے ساتھ غسل خانے وغیرہ کی سہولت بھی ہو۔اوپر کا اندازہ ان ساری چیزوں کو شامل کر کے ہے۔اس قسم کی ایک کمپنی سے بھی گفت و شنید کی جا رہی ہے۔ایسے احمدی احباب جو اس سکیم میں شریک ہو کر اپنے مکان بنوانا چاہتے ہوں اگر وہ اپنے ارادے سے مطلع کر دیں