خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 118 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 118

خطبات طاہر جلد ۲ 118 خطبه جمعه ۲۵ / فروری ۱۹۸۳ء نہیں سکتا۔البتہ بعض دفعہ نفسیاتی لحاظ سے ایسے مواقع پیدا ہو جاتے ہیں جن میں ہدایت کو قبول کرنے کا ایک خاص وقت ہوتا ہے۔حکمت کا یہ تقاضا ہے کہ ان اوقات سے بھی استفادہ کیا جائے اس لئے مختلف وقتوں میں مختلف قسم کی باتیں زیب دیتی ہیں اور وہ اثر کرتی ہیں۔مثلاً جب غم کی کیفیت ہو تو اس وقت اور قسم کی بات کی جاتی ہے اور جب خوشی کی کیفیت ہو تو اور طرح کی بات کی جاتی ہے اسی طرح جب خوف و ہراس کا زمانہ ہو تو اور طریقے سے بات کرنی پڑے گی۔اس سلسلہ میں مجھے بہت سے دوست واقعات بتاتے رہتے ہیں۔خود میرے علم میں ایسے بیسیوں واقعات ہیں کہ ایک احمدی نے جب بھی حکمت سے کام لیا اور موقع محل کے مطابق بات کی تو بہت جلدی اس کا پھل لگا۔چنانچہ میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا ہمارے ایک معلم وقف جدید تھے جو ان پڑھ تھے۔سو فیصدی تو نہیں لیکن ان پڑھ کے قریب ترین جو آدمی ہوتا ہے وہ ان کی کیفیت تھی لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی تبلیغ کو سب سے زیادہ پھل لگتا تھا کیونکہ جوعلم کی کمی تھی وہ اس کو دعا اور حکمت کے ذریعہ پوری کرتے تھے۔چنانچہ موقع اور محل کی تلاش میں رہنا اور حسب حالات گفتگو کرنا ان کا شیوہ تھا۔کہیں شادی کی مجلس ہے تو شادی کی باتیں اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وہ کلام شروع کر دیا جو خوشی کے موقع کا کلام ہے۔اگر غم کی کیفیت ہے تو اس میں صبر کی تلقین کرتے کرتے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کوئی واقعہ سنادیتے کہ آپ کو جب دکھ پہنچتے تھے تو آپ یوں کیا کرتے تھے۔غرض اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت ہی حکمت عطا کر رکھی تھی۔ایک مولوی صاحب تھے جوان کے بہت شدید مخالف تھے ایسے مخالف کہ کئی دفعہ ان کو مار پڑوا کر اپنے گاؤں سے باہر نکلوا چکے تھے۔مگر یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے دُھن کے ایسے پکے اور ایسے بے خوف انسان تھے کہ کبھی پرواہ نہیں کی۔بار بار ماریں بھی کھائیں مگر پھر بھی ان کے پاس پہنچ جاتے تھے یہاں تک کہ مولوی صاحب تھک گئے اور انہوں نے مارنا پیٹنا چھوڑ دیا۔پھر تھوڑی بہت باتیں شروع ہوئیں لیکن مولوی صاحب اپنی ضد پر قائم اور یہ اپنے فرض تبلیغ پر قائم رہے۔ایک دفعہ کسی کی تدفین کے لئے مولوی صاحب جا رہے تھے تو یہ بھی ساتھ چل پڑے۔جب وہ میت کو لحد میں اتارنے لگے تو اس وقت ان کو خیال آیا که مولوی صاحب نہ دلیل سے قابو آتے ہیں اور نہ تبشیر سے قابو آتے ہیں ہوسکتا ہے ڈرپوک ہوں خوف سے قابو آجائیں۔چنانچہ جب وہ میت کو لحد میں اتارنے لگے تو انہوں نے بڑی جرات کے