خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 119
خطبات طاہر جلد ۲ 119 خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۸۳ء ساتھ آگے بڑھ کر مولوی صاحب کو گریبان سے پکڑ لیا اور کہا مولوی صاحب! ایک منٹ ٹھہر جائیں۔مجھے یہ بتائیں کہ جہاں آپ اس مردے کو داخل کر رہے ہیں یہ وہاں سے کبھی واپس آجائے گا۔مولوی صاحب نے تعجب سے دیکھا اور کہا کہ کبھی مڑ کر واپس نہیں آسکتا۔یہ بولے کہ گویا اس کے اعمال کا دور ختم ہوگیا ، اب پھر اس کو اعمال کا موقع نہیں ملے گا، جو خدا نے اس سے پوچھنا ہے وہ اس سے پوچھے گا اور یہ بے بس ہو گا واپس نہیں جاسکتا، اپنے اعمال میں کچھ بھی تبدیلی نہیں کر سکتا۔مولوی صاحب نے کہا ٹھیک ہے۔انہوں نے کہا پھر آپ کے ساتھ بھی یہی ہونا ہے اور یہ کہہ کر الگ ہو گئے۔رات مسجد میں سوئے ہوئے تھے تو جس طرح حضرت مولوی راجیکی صاحب کا واقعہ آتا ہے ویسا ہی ملتا جلتا واقعہ ان کے ساتھ بھی پیش آیا۔وہی مولوی صاحب آدھی رات کے وقت روتے پیٹتے پہنچ گئے کہ میری بیعت کرواؤ۔انہوں نے کہا کہ آپ کی بیعت کرواتے ہیں لیکن یہ تو بتائیں ہوا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ حساب کتاب ہو رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھ سے سوال ہی یہ کیا کہ امام مہدی کا زمانہ پایا تھا تو تم نے کیا کیا اور میں چیختا چلاتا ہوں اور میں کہتا ہوں مجھے واپس جانے دو، میں سمجھ گیا ہوں لیکن کہا گیا اب کوئی وقت نہیں رہا۔چونکہ ہمارے معلم نے موقع اور محل کے مطابق بات کی تھی اور قرآن کریم نے وعدہ کیا ہے کہ اگر حکمت کے ساتھ بات کرو گے تو اس کا پھل بھی پاؤ گے۔چنانچہ وہ مولوی صاحب خدا کے فضل سے صرف احمدی ہی نہیں ہوئے بلکہ اتنے مخلص اور خود دار احمدی بنے کہ میں نے از خود یہ سوچ کر کہ وہ مولوی تھے ان کے گزارہ کی کوئی صورت نہیں رہی ہوگی پیشکش کی کہ آپ کو وقتی طور پر جب تک آپ کو ضرورت ہے آپ کے لئے کچھ گزارہ مقرر کر دیتے ہیں۔انہوں نے کہا بالکل نہیں میں اپنا ایمان خراب نہیں کرنا چاہتا۔چنانچہ انہوں نے اسی گاؤں میں چھا بڑی لگائی اور جو کچھ بھی روکھی سوکھی میسر آئی اس سے گزراوقات کیا اور ایک مبلغ بن گئے۔پس حکمت سے بات کرنے کے لامتناہی تقاضے ہیں۔اگر آپ ان کو نظر انداز نہ کریں اور بیدار مغزی کے ساتھ ہر موقع سے فائدہ اٹھا ئیں تو ہر جگہ ایک الگ الگ جواب دینے کی توفیق ملے گی۔کوئی ایسا قانون نہیں ہے جو اکٹھا بتا دیا جائے اور وہ ہر صورت حال پر اطلاق پا جائے۔قرآن کریم نے جہاں اختصار اختیار فرمایا ہے وہ بھی کمال شان کا اختصار ہے۔ساری حکمتوں کا خزانہ ایک لفظ حکمت میں رکھ دیا۔فرمایا موقع اور محل کے مطابق تم الگ الگ اس کے ترجمے کیا کرنا الگ الگ معنے