خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 6 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 6

خطبات طاہر جلد ۲ 6 خطبہ جمعہ ۷ / جنوری ۱۹۸۳ء آپ غور کریں تو ان کے اندر بھی آپ کی سیرت طیبہ کے بہت سے عظیم الشان پہلو دکھائی دیتے ہیں لیکن جو سب سے اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ جب سیرت کے مضمون کو ہم سنتے ہیں تو اس طرح نہیں سنتے جس طرح سنے کا حق ہوتا ہے۔آپ ایک کھلاڑی کی کھیل کا باہر بیٹھے نظارہ کرتے ہیں۔مثلاً کرکٹ کی بہت اچھی کھیل ہو رہی ہے، آپ باہر بیٹھے دیکھ رہے ہیں اور بڑا لطف اٹھارہے ہیں۔کھیل کے بعد گھر کو رخصت ہوتے ہیں۔آپ کو بلا بھی پکڑنا نہیں آتا۔کوئی آپ کو یہ نہیں کہہ سکتا کہ تم اتنی تعریفیں کر رہے تھے اب بلا تو پکڑ کے دکھاؤ۔آپ کہیں گے تم پاگل ہو گئے ہو۔بلے کا مجھ سے کیا تعلق میں تو نظارہ کر رہا تھا۔مجھے لطف اٹھانے کا حق ہے ہاں مجھے کھیل سے کوئی واقفیت نہیں۔لیکن سیرت کے کے مضمون میں کوئی انسان یہ نہیں کہہ سکتا۔سیرت کا مضمون اور وہ بھی اس سیرت طیبہ کا مضمون جو اسوۂ حسنہ بن گئی ہو اس میں یہ جواب قابل قبول ہی نہیں ہے۔یہ جواب بلکہ عقل کے خلاف ہے۔جب اسوہ کو سامنے رکھ کر آپ اس حسن کا مطالعہ کرتے ہیں یا حسن کا ذکر کرتے ہیں تو لازماً اس کو اختیار کرنے کی پابندی آپ پر عائد ہو جاتی ہے۔حسب توفیق جتنا بھی اختیار کر سکیں اختیار کریں یعنی اپنی اپنی حیثیت اور توفیق کے مطابق لازماً اس طرف قدم آگے بڑھانے پڑیں گے۔اگر سیرت کے حسن کا لطف اٹھانے کی خاطر آپ گھروں کو لوٹ آئیں اور اتباع نبوی کی طرف ایک بھی قدم آگے نہ بڑھا ہو تو یہ منافقت ہے یہ سراسر جھوٹ ہے۔ایسے لوگوں کو نہ رسول اکرم ﷺ پر درود بھیجے کا حق رہ جاتا ہے نہ ان کے درود کے کوئی معنے بنتے ہیں کیونکہ جن کا عمل ان کے قول کو جھٹلا رہا ہو ، جن کا فعل ان کے نظریات کی تردید کر رہا ہو، ان کے اعمال اور اقوال کی کوئی بھی حقیقت نہیں رہتی۔چنانچہ قول کا حسن بھی حسن عمل کے ساتھ وابستہ کر دیا گیا جیسا کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا ( تم السجدة: ۳۴) بڑا حسین قول ہے کہ اللہ کی طرف آؤ۔خدا کی طرف بلانے سے بہتر اور کون سا بلا وا ہوسکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ عمل اس قول کی تائید کر رہا ہو۔جس کی طرف بلاتے ہو تم بھی تو نظر آؤ کہ اس کی طرف سے آئے ہو۔یہ تو نہیں کہ انسان بلائے تو حسن کی طرف اور نظریہ آرہا ہو کہ وہ انتہائی گندگی سے نکل کر آیا ہے۔پس یہی وہ مضمون ہے جس کو ہم جب سیرت پر اطلاق کر کے دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ