خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 5
خطبات طاہر جلد ۲ 5 خطبہ جمعہ ۷ / جنوری ۱۹۸۳ء جو حضرت محمد مصطفی نے کی ہے۔پس یہ نہ دیکھیں کہ کس نے ان کو کیا نصیحت کی ہے یہ دیکھا کریں کہ نصیحت اپنی ذات میں کیا ہے۔اگر اس میں کہنے والے کے نفس کی کچھ ملونی بھی شامل ہوگئی ہو تو مثلاً بعض لوگ نصیحت میں دراصل اپنے بدلے اتار رہے ہوتے ہیں، ان کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ کسی کو فائدہ پہنچے وہ اپنے دل کا دکھ نکالتے ہیں، ایسی صورت میں بھی اتنی عظیم الشان نصیحت ہے۔فرمایا : ضالة المؤمن ( سنن ترمذی، کتاب العلم ، باب ما جاء في فضل الفقه على العبادة ) تم یہ سمجھنا کہ تمہاری گم شدہ چیز ہے اور گم شدہ چیزوں میں بھی بعض دفعہ جب گند لگ جاتے ہیں اور خرا بیاں پیدا ہو جاتی ہیں انسان اپنا حق سمجھ کر ان کو لے لیتا ہے اور ان خرابیوں کو دور کر دیتا ہے، اس کو اصل کی طرف لوٹا دیتا ہے۔اس چھوٹی سی بات میں اتنا گہرا فلسفہ ہے کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔اگر آپ اس پر عمل کریں گے تو پھر انشاء اللہ تعالیٰ آپ کو ایسی حیرت انگیز اور عظیم الشان اطاعت کی توفیق ملے گی کہ جس کے تصور سے بھی دنیا عاری ہے۔اس طرح جماعت احمد یہ اطاعت کے معاملہ میں جس مقام پر فائز ہو گی دنیا اس کا وہم بھی نہیں کر سکے گی کیونکہ آنحضور ﷺ کے زمانہ میں ان نصیحتوں پر عمل کرنے کے نتیجہ میں ہم نے یہی نظارے دیکھے ہیں۔الله تیسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آنحضرت علیہ نے عفو ، رحم اور شفقت کا جو سلوک فرمایا اور اس کے پاک نمو نے قائم فرمائے ان کا ذکر تو بہت ہی طویل ہے یعنی ایک مجلس تو کیا سینکڑوں مجالس میں بھی اس ذکر کا حق ادا نہیں ہوسکتا کیونکہ حضور اکرم ﷺ کی سیرت کا ایک عظیم الشان پہلو یہ ہے کہ وہ دور سے بھی حسین نظر آتی ہے اور قریب سے بھی حسین نظر آتی ہے۔اور قریب جا کر حسن کے نئے نئے پہلو سامنے آنے لگتے ہیں۔جس طرح باغ کو آپ بھی ایک نظر سے دیکھتے ہیں آپ کو بڑا حسین نظر آتا ہے لیکن جب تتلیاں پھولوں کا رس چوستی ہیں تو ان کو پھول کا ایک اور حسن نظر آنے لگتا ہے۔گویا کسی چیز کو قریب سے دیکھیں تو اس کے حسن کی تفاصیل نظر آتی ہیں۔پس کامل حسن جو ظا ہری بھی ہو اور باطنی بھی ہو اسکی ایک خصوصی علامت یہ بھی ہے کہ وہ دور سے بھی اچھا دکھائی دیتا ہے اور قریب سے بھی۔البتہ جتنا قریب آئیں اس کا حسن زیادہ جاذب نظر ہوتا چلا جاتا ہے اس لئے آنحضرت ﷺ کی سیرت کا اس پہلو سے بھی مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات پر بھی