خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 7
خطبات طاہر جلد ۲ 7 خطبہ جمعہ ۷ /جنوری ۱۹۸۳ء آنحضرت ﷺ کی سیرت کا مضمون بیان کرنا بھی انتہائی ذمہ داریوں کو دعوت دیتا ہے اور سننا بھی انتہائی ذمہ داریوں کو دعوت دیتا ہے۔اس لئے اس مضمون میں انسان کوحتی المقدور یہ دعا کرتے رہنا چاہئے اور یہ کوشش کرتے رہنا چاہئے کہ وہ جو کچھ سنے ویسا بننے کے لئے کچھ نہ کچھ کوشش ضرور کرے۔اگر معمولی پاک تبدیلی بھی پیدا ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کوشش کو قبول فرماتا ہے اور آگے بڑھا صلى الله دیتا ہے اس لئے جب آپ سنتے ہیں کہ آنحضور ﷺے صدیق تھے تو سچ کے معیار میں کچھ اضافہ کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔جب آپ سنتے ہیں کہ آپ امین تھے تو دیانت کے معیار کو بڑھانا ضروری ہو جاتا ہے۔جب آپ سنتے ہیں کہ آپ محسن تھے اور بخشش کرنے والے تھے تو اپنی بخشش کے معیار کو بڑھانا ضروری ہو جاتا ہے۔لیکن آنحضور علی بخشش کیسے کرتے تھے، کیوں کرتے تھے ، کہاں بخشش فرماتے تھے اور کہاں نہیں فرماتے تھے ؟ اس نقطہ نظر سے آپ کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کیا جائے تو صرف نیک عمل کی توفیق نہیں ملتی بلکہ آنحضرت ﷺ کے کردار کے پس منظر میں ایک گہرا فلسفہ دکھائی نا ہے۔آپ کے ایک چھوٹے سے عمل میں بھی عظیم الشان تعلیمات کا ایک سمندر نظر آتا ہے۔اس پہلو سے جب ہم آپ کی سیرت طیبہ پر غور کرتے ہیں اور دیگر حسن والوں سے حضور اکرم ﷺ کا موازنہ کرتے ہیں تو ان کی کوئی بھی حیثیت آنحضور ﷺ کے مقابل پر نظر نہیں آتی۔الله حسن یوسف بہت مشہور ہے۔حضرت یوسف علیہ السلام کا جو اصل حسن ہے جس کا سیرت سے تعلق ہے قرآن کریم نے اس کا واقعہ بیان کرتے ہوئے چند الفاظ میں محفوظ کیا ہے۔فرمایا لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ (يوسف : ۹۳) آج کے دن تم پر کوئی پکڑ نہیں ہے۔یہ معافی کا بڑا عظیم الشان اعلان ہے اور بہت ہی خوبصورت قصہ دکھائی دیتا ہے۔لیکن آنحضرت ﷺ کی طبیعت میں جو بجز اور انکسار تھا اس میں ایک یہ بات بھی حیرت انگیز طور پر سامنے آتی ہے کہ جب فتح مکہ کے بعد آپ نے قوم کو معاف فرمایا تو حضرت یوسف علیہ السلام کی طرف توجہ پھیر دی اور وہ الفاظ استعمال فرمائے جو حضرت یوسف علیہ السلام استعمال کر چکے تھے۔آپ نے فرمایا جس طرح میرے بھائی یوسف نے کہا تھا میں بھی وہی کہتا ہوں۔حالانکہ اگر آپ تجزیہ کر کے دیکھیں، دیانت داری سے مقابلہ کریں تو حسن یوسف کو حسن محمد مصطفی ﷺ سے کوئی نسبت ہی نہیں رہتی۔حضرت یوسف علیہ السلام نے کیا معاف کیا اور کس طرح معاف کیا ، اس پر ذرا غور کر کے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت