خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 95
خطبات طاہر جلد ۲ 95 95 خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۸۳ء یعنی بدل دو۔حسن داخل کرتے چلے جاؤ تا کہ برائیاں جگہ چھوڑتی چلی جائیں۔جیسے ایک کمرہ میں زیادہ لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش نہ ہو تو جو لوگ پہلے بیٹھے ہوتے ہیں وہ نئے آنے والوں کے لئے جگہ خالی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔یہاں بھی اسی قسم کا مضمون ملتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم اپنی طبیعت میں حسن داخل کرتے چلے جاؤ، بدیاں خود بخود جگہ چھوڑتی چلی جائیں گی اور یہ امر واقعہ ہے کہ اس کے بغیر کبھی دنیا میں کوئی باقی رہنے والی تربیت نہیں ہوسکتی۔جولوگ اس نفسیاتی سنکتے کو نہیں سمجھتے وہ ہمیشہ بدیاں دور کرنے میں ناکام رہتے ہیں کیونکہ انسانی فطرت کا یہ تقاضا ہے کہ جب کسی کو یہ کہا جائے کہ یہ نہ کرو تو سوال یہ ہے کہ کیوں نہ کرے، اس سے بہتر کوئی چیز ملے گی تو نہیں کرے گا ور نہ وہ اپنی ضد پر قائم رہے گا۔فطرت چاہتی ہے کوئی اس کا متبادل ہو، کوئی اس سے بہتر چیز ہو اس لئے میں نے بارہا یہ کہا ہے کہ آپ جب اپنے گھروں کی ، اپنے بچوں کی ، اپنی عورتوں کی تربیت کرتے ہیں تو اس بات کو پیش نظر رکھا کریں کہ اگر ان کو میوزک سے ہٹانا ہے یا گندی قسم کے گیتوں سے اور گندے فلمی گانوں سے ہٹانا ہے تو پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظمیں اچھی آواز میں تیار کریں جو دل پر گہرا اثر کرنے والی ہیں۔جب آپ وہ نظمیں ان کو سنانا شروع کریں گے تو آہستہ آہستہ ان کی لذتوں کے معیار بدلنے شروع ہوں گے۔ایک چیز داخل ہوگی دوسری کو دھکیل کر باہر کر رہی ہوگی۔یہ ایک دن کا کام نہیں ہے، دو دن کا کام نہیں ہے، یہ تو بڑا لمبا اور صبر آزما کام ہے۔ہمت کے ساتھ اور مستقل مزاجی کے ساتھ انسان اگر ایک پروگرام بنا کر رفتہ رفتہ یہ کام کرنا چاہے تو یقینا کامیاب ہوگا کیونکہ قرآن کریم کا یہ دعویٰ ہے اور قرآن کریم کا دعویٰ کبھی جھوٹا نہیں ہوتا۔اس سلسلہ میں آپ کو تربیت کے کام کی تیاری کے لئے بہت وسیع مضمون مل جاتا ہے۔مثلاً احادیث نبویہ ہیں، ان میں سے ایسی احادیث منتخب کریں جو غیر معمولی طور پر دل پر اثر کرنے والی ہوں وہ احسن کے تابع آئیں گی۔آنحضرت ﷺ کی طرف سے آپ ہی کے الفاظ میں احکامات دینا بھی بہت گہرا اثر رکھتا ہے۔ایسی احادیث کے ترجمے کرنا یا مختلف معاشرتی خرابیوں کے پیش نظر احادیث میں سے انتخاب کرنا بہت ضروری ہے۔پھر آپ ان کو ریکارڈ کریں یا مجالس میں بیان کریں۔گھروں میں چھوٹی چھوٹی مجلسیں لگیں وہاں اچھی تلاوت سنائی جائے اور پھر اس کے ترجمے ہوں۔قرآن کریم تو ایک ایسی کتاب ہے جو آہستہ آہستہ سارے انسانی نظام Take Over کرتی یعنی اس پر قابض ہو