خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 96
خطبات طاہر جلد ۲ 96 96 خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۸۳ء جاتی ہے۔قرآن کا حکم چلنے لگ جاتا ہے اور غیر قرآن کا حکم خود بخود جگہ کو چھوڑ دیتا ہے۔پس یہ درجہ بدرجه بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کی مثالیں ہیں۔آپ Creative Programme یعنی تعمیری پروگرام بنائیں۔یاد رکھیں اگر آپ میں تعمیری پروگرام بنانے کی اہلیت نہیں ہے تو دنیا آپ کی بات نہیں مانے گی۔چنانچہ انبیاء علیہم السلام کی تعلیم اور ان کے دستور سے جو قرآن کریم میں بیان ہوا ہے ہمیں یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس عمل میں وہ اس بات کا انتظار نہیں کیا کرتے تھے کہ مقابل کی سوسائٹی پہلے ایمان لائے تو پھر ان کے اندر حسن عمل پیدا کرنے کی کوشش شروع کی جائے۔قرآن کریم میں ایسے جتنے بھی واقعات بیان ہوئے ہیں ان سے پتہ لگتا ہے کہ برائیوں کو دور کرنے کی تعلیم وہ پہلے شروع کر دیتے تھے۔حضرت شعیب علیہ السلام نے اس بات کا کب انتظار کیا تھا کہ قوم ایمان لائے تو میں ان کو کہوں کہ تول درست کرو۔حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کی بداخلاقی کی اصلاح کے لئے کب یہ انتظار کیا تھا کہ قوم ایمان لائے تو پھر میں ان کی تربیت کا کام شروع کروں۔حضرت صالح علیہ السلام نے وہ کیا با تیں کی تھیں جن کے نتیجہ میں یہ اعتراض پیدا ہوئے کہ تم ہمارے اموال میں دخل دے رہے ہو اور تم ہمارے اوپر اپنی حاکمیت جتا ر ہے ہو اور ہمیں نصیحتیں کر رہے ہو۔اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء نے قوم کے عمل کو درست کرنے کے لئے کبھی اس بات کا انتظار نہیں کیا کہ وہ لوگ ایمان لاتے ہیں یا نہیں۔اس میں ایک گہری حکمت ہے اور وہ حکمت یہ ہے کہ نیکی کی بات دراصل کسی دلیل کو نہیں چاہتی کسی اچھے اور خوبصورت کام کی طرف اگر آپ خوبصورت رنگ میں کسی کو بلاتے ہیں تو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم کب تمہیں مانتے ہیں کہ تم ہمیں یہ باتیں کہتے ہو۔اگر کوئی یہ جواب دے تو اس کی بڑی بیوقوفی ہو گی۔آپ کسی بھو کے آدمی کو یہ کہیں کہ میں تمہارے لئے کھا نالا یا ہوں تم کھانا کھالو تو وہ یہ نہیں پوچھے گا کہ میں تو تمہیں مانتا ہی نہیں، میں کیوں کھانا کھالوں۔کوئی آدمی گرمی میں دھوپ میں بیٹھا ہو اور آپ اس سے کہیں کہ اٹھ کر سایہ میں آجاؤ تو وہ آگے سے یہ جواب نہیں دے گا کہ نہیں ! نہیں ! تم اور فرقہ سے تعلق رکھتے ہو میں اور فرقہ سے تعلق رکھتا ہوں۔اچھی باتوں میں فرقہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔نظریاتی اختلاف الگ ہیں ان کا اپنا مقام ہے اور نیک اعمال کی تعلیم ایک بالکل الگ مسئلہ ہے اس لئے اس معاملہ میں انبیاء نے کبھی انتظار نہیں کیا اور اس میں ایک بڑی حکمت یہ تھی کہ ان کا اور