خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 94
خطبات طاہر جلد ۲ 94 خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۸۳ء کے امام کو یہ توفیق بخشی کہ ان کی دیکھ بھال کریں۔قطع نظر اس بات کے کہ ان کے دل پر اس کا کیا اثر پڑا اور انہوں نے اس کا اظہار کن الفاظ میں کیا۔یہ امر واقعہ ہے کہ کچھ بھی رد عمل ہوتا تب بھی مومن اس جادہ سے ہٹ نہیں سکتا، اس راہ کو چھوڑ کر وہ اپنے لئے کوئی اور راہ اختیار نہیں کرسکتا کیونکہ قرآن کریم نے اس کو پابند کر دیا ہے کہ اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کی رو سے تمہارے لئے یہ ضروری ہے کہ تم برائی کا بدلہ بہر حال نیکی سے دو گے۔کوئی مصیبت میں مبتلا ہے اس کی مصیبت کو دور کرنے کے لئے تیار رہو گے اور اپنے عمل سے ہر گز یہ ثابت نہیں کرو گے کہ تم بھی بروں کی طرح برے ہو جاتے ہو۔اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کا دوسرا پہلو اندرونی تربیت سے بھی تعلق رکھتا ہے۔فرمایا جب بھی تمہارے اندر کوئی برائی پیدا ہونے لگے تو اس کو حسن سے دور کرو اور جب بھی معاشرہ میں تربیت کے معاملہ میں کوئی برائی پیدا ہو اس کو بھی حسن سے دور کرو۔یہ مضمون بھی اپنی ذات میں بڑا گہرا او تفصیلی ہے۔قرآن کریم نے کہیں بھی Annihilism یعنی ملیا میٹ کر دینے کا کوئی فلسفہ پیش نہیں کیا۔قرآن کریم نے کہیں بھی کسی کو یہ تعلیم نہیں دی کہ وہ کسی موجود چیز کو مٹادے۔ہاں بہتر چیز سے بدلہ دینے کی تعلیم دیتا ہے۔لیکن سارے قرآن کریم میں کسی ایک جگہ بھی Annihilism یعنی ملیا میٹ کر دینے کی تعلیم نہیں دی گئی۔یہ کہنا کہ : اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو کاخ امراء کے درودیوار ہلا دو ( بال جبریل نظم بعنوان فرمان خدا) قرآن کریم میں ایسی کوئی تعلیم نہیں ملتی۔یہ شاعروں کی دنیا کی باتیں ہے۔قرآن کریم یہ تعلیم دیتا ہے کہ اگر تم میں بہتر چیز دینے کی طاقت موجود ہے تو بری چیز کو بہتر چیز سے تبدیل کرو۔اگر تم میں یہ طاقت موجود نہیں ہے تو پھر تمہیں اس بات کا کوئی حق نہیں کہ ایک موجود چیز کو مٹاؤ کیونکہ اس طرح خلا پیدا ہوتا ہے جس کی سارے قرآن میں کوئی تعلیم نہیں ہے۔پس ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کا یہاں مطلب یہ بنے گا کہ برائیوں کو حسن سے Replace