خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 87 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 87

خطبات طاہر جلد 17 87 خطبہ جمعہ 6 فروری1998ء اس سے نہ بولنا بہتر ہے لیکن کہاں بولنا ہے کہاں نہیں بولنا اس مضمون کو بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بڑی وضاحت سے سمجھا رہے ہیں ورنہ محض بولنے سے پر ہیز سے آپ کا مقصد حل نہیں ہوگا یعنی وہ مقصد حل نہیں ہوگا جو خدا تعالیٰ نے آپ پر عائد فرمایا ہے۔اس کے متعلق نیکی کی تعلیم دینا اور بدی سے روکنا یہ حکم ہے جو قرآن کریم نے بار بار دیا ہے اور یہی وہ حکم ہے جس کی تفصیل حضرت رسول اللہ صلی و ایم نے بار بار بیان فرمائی ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ بات کھول رہے ہیں کہ کسی بات سے رکنا کہ فساد نہ ہو ہرگز یہ مراد نہیں کہ اچھی بات جو تم سمجھتے ہو کہ ہونی چاہئے اس لئے اس سے رک جاؤ کہ فساد نہ ہو یا بری بات جس سے روکنا تم ضروری سمجھتے ہو اس سے نہ روکو تو یہ بھی اللہ کے منشا کے خلاف ہے اور جو مثال میں نے آپ کے سامنے رکھی ہے وہ اس بات کو خوب واضح کرتی ہے۔اندھیرے کمرے میں ایک شخص بیٹھا ہو اس کو سب کچھ دکھائی دے رہا ہو۔جب تک دکھائی نہ دے اس نے کوئی حرکت نہیں کی تاکہ ٹھوکر نہ کھا جائے جب نظر آنے لگ گیا تو اس کو صاف پتا چل گیا کہ یہاں میز پڑی ہے، یہاں فلاں چیز پڑی ہے، یہاں یہ نقصان ہو سکتا ہے، یہاں چھری پڑی ہے، یہ کیل پڑا ہے اس پر پاؤں آسکتا ہے وغیرہ وغیرہ بعض دفعہ شیشہ کے ٹکڑے بکھرے ہوئے ہوتے ہیں تو اگر اس نے دیکھ لیا اور پھر بیچ کے نکل گیا۔اتنے میں اس کا کوئی بچہ ایک دم داخل ہوتا ہے تو کیا وہ رک جائے گا اس بات سے کہ اس کو بتائے کہ یہ کام نہیں کرنا۔ہرگز نہیں رکے گا۔اس وجہ سے کہ وہ کہے گا کہ کیا مجھے روک رہے ہیں کیوں خواہ مخواہ مجھے پر بار بار پابندیاں لگاتے ہیں یہ کرو، یہ نہ کرو، ہر گز نہیں رکے گا۔وہ اس کو کہے گا دیکھو بیٹا ٹھہرو، ٹھہرو ٹھہرو۔ذرا سوچ کر قدم اٹھاؤ اس کمرے میں یہ بھی خطرہ ہے، یہ بھی خطرہ ہے، وہ بھی خطرہ ہے اور اگر تم ذرا ٹھہر جاؤ گے تو تمہیں یہ خطرات دکھائی دینے لگ جائیں گے مگر جب تک دکھائی نہیں دیتے میرا فرض ہے کہ میں تمہیں اپنی آنکھوں سے دکھاؤں۔یہ نہی عن المنکر ہے یعنی نا پسندیدہ چیزوں سے روک دینا۔اس پر اگر کوئی غصہ کرے تو اس کے باوجو در وکنا ہے صرف یہ تاکید ہے کہ حسن کلام سے کام لو۔جیسا کہ قول کے متعلق فرمایا اسی کی تشریح میں کر رہا ہوں کہ جب بات کرنا احسن طریق پر کیا کرنا مگر بعض دفعہ بات کرنا ضروری ہوگا۔اگر تم دلکش انداز میں وہ بات کہو اور بھونڈے طریقہ سے نہ کہو تو پھر تم اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکتے ہو۔