خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 88 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 88

خطبات طاہر جلد 17 88 خطبہ جمعہ 6 فروری1998ء پس آپ نے دوسروں کو رستہ دکھانا ضرور ہے اس سے رکنا آپ کے اختیار ہی میں نہیں ہے۔بری باتوں سے روکنا بھی لازم ہے اچھی باتوں کی طرف بلانا بھی لازم ہے اس سے انحراف ہوسکتا ہی نہیں۔اگر آپ رسول اللہ صلی السلام کے غلام ہیں کیونکہ آپ صلی یا یہ تم کو خدا کا یہی حکم تھا کہ تم نے ضرور کہنا ہے خواہ کوئی قبول کرے یا نہ کرے خواہ غصہ کرے یا نہ کرے مگر بات کا انداز ایسا ہو کہ اس سے اچھا انداز ممکن ہی نہ ہو۔یہ طریق کار حضرت اقدس محمد رسول اللہ صل للہ یہ تم نے ہمیں سکھایا اور یہ جوتحریر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پڑھ رہا ہوں اس میں آگے چل کر یہی مضمون آنے والا ہے۔دیکھیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کتنی باریکی سے ان راہوں کے خموں کو جانتے تھے، جانتے تھے کہ کہاں ٹھوکر کھائی جاسکتی ہے ان کے خطرات سے آگاہ تھے اور اپنی روشنی ہمیشہ آنحضرت صلی نیستم سے لیا کرتے تھے۔اپنے لئے کوئی نئی روشنی کبھی نہیں آپ نے بنائی۔ہمیشہ رسول اللہ سی ایم کے اسوہ حسنہ پر چلے اور آپ مسلہ یہی تم ہی سے سیکھا کیا بتانا ہے کیا نہیں بتانا، کہاں بولنا ہے کہاں نہیں بولنا اور جب بولنا ہے تو بولنے کا طریق کیا ہونا چاہئے۔دو لیکن یہ بھی مومن کی شان سے بعید ہے کہ امر حق کے اظہار میں رکے۔“ مومن کی شان سے بعید ہے یہ بات سن کر یہ نہ سمجھیں کہ ہر بات حق سمجھ کر اس طرح بھونڈے انداز میں کریں کہ وہ فساد کا موجب بن جائے۔حق بیان کرنے کا بھی ایک طریقہ ہوا کرتا ہے حق تو بیان کرنا ہے مگر ایسے رنگ میں بیان کرنا ہے کہ وہ احسن ہو۔اس ذکر میں فرماتے ہیں: ” مومن کی شان سے بعید ہے کہ امر حق کے اظہار میں رکے اس وقت کسی ملامت کرنے والے کی ملامت اور خوف زبان کو نہ روکے۔“ کوئی بیوقوف اس کا غلط معنی بھی لے سکتا تھا اس لئے رسول اللہ صلی یتیم کی مثال دے کر آپ نے اس کو اتنا کھول دیا کہ اس کے غلط معنی لینے کا کوئی امکان ہی کوئی احتمال ہی باقی نہیں رہا۔”دیکھو ہمارے نبی کریم صلی کیا یہی تم نے جب اپنی نبوت کا اعلان کیا تو اپنے پرائے سب کے سب دشمن ہو گئے مگر آپ نے ایک دم بھر کے لئے کبھی کسی کی پروا نہیں کی۔“ اپنے پرائے سارے دشمن ہو گئے مگر ایک دم بھر کے لئے کسی کی پرواہ نہیں کی۔ایک واقعہ آپ رسول اللہ صلی ایتم کی زندگی سے ایسا نہیں نکال سکتے کہ آپ صلی ا یتیم کی بات کرنے کی طرز نعوذ باللہ