خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 86
خطبات طاہر جلد 17 86 خطبہ جمعہ 6 فروری1998ء مگر ایسا بندہ جو واقعی برائی سے بچنا چاہے اور وہ دن رات دعائیں کرتا رہتا ہو، ہر وقت ذکر الہی میں مصروف رہے یا دوسری باتوں میں بھی مصروف ہو تو اس کا دل ہمیشہ یہ چاہے کہ اے اللہ میری نصرت فرما، اے اللہ میری مدد فرما، اے اللہ مجھے سچی بات کہنے کی توفیق بخش ،اے اللہ تعالیٰ مجھے بری باتوں سے بچا۔اس قسم کی دعائیں کرتارہتا ہے وہ جب بھی ٹھہر کر سوچے گا اس کو حق صاف دکھائی دے دے گا۔یہ بات میں اس غرض سے کرنے لگا تھا ، اس بات میں دکھاوا تھا، اس بات میں فریب تھا، اس بات میں یہ برائی تھی یا وہ برائی تھی یہ ساری چیزیں آپ کو کچھ ٹھہرنے کے بعد رفتہ رفتہ دکھائی دینے لگیں گی جیسے اندھیرے کمرے کی چیزیں ایک دم صاف دکھائی نہیں دیا کرتیں۔آپ اندر جا کر بیٹھیں تو تھوڑی دیر کے بعد سب کچھ دکھائی دینے لگ جاتا ہے۔اسی لئے شیطان سے بچنے کا یہ طریق ہے۔وہ آپ کو ظلمات میں گھسیٹتا ہے ، اندھیروں میں گھسیٹتا ہے اور جلدی فیصلہ چاہتا ہے۔اگر آپ ان اندھیروں میں جلدی میں کوئی فیصلہ کریں گے تو ہر گز بعید نہیں کہ آپ بار بار ٹھوکریں کھائیں گے اور اپنے نقصان کا موجب بنیں گے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس نفسیاتی نکتہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ جب بھی کوئی ایسا معاملہ ہو کہ تمہارے دل میں ایک جوش ہو کسی بات کے کرنے کا تو اچانک دل اس بات کی طرف متوجہ ہو کہ میں کچھ بات کہہ کے یا اپنا بدلہ لوں یا کچھ بھی نیت ہو اس وقت تمہیں وہ بات اچھی لگے گی لیکن ذرا ٹھہر جاؤ گے تو اس اندھیرے میں سے تمہیں شیطان کی ساری حرکتیں دکھائی دینے لگ جائیں گی اور اسی بات پر استغفار شروع کر دو گے۔پس اللہ کے حوالہ کیا کرو بات کو اور انتظار کیا کرو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں روشنی عطا فرما دے اور تم اندھیروں کی ٹھوکروں سے بچ سکو۔یہ خلاصہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نصیحت کا۔اس کی تفصیل میں بیان فرماتے ہیں: جب تک یہ نہ سوچ لومت بولو۔ایسے بولنے سے جو شرارت کا باعث اور فساد کا موجب ہو ، نہ بولنا بہتر ہے۔یہ جو شرارت یا فساد کا موجب ہوؤ فرمایا ہے۔صاف پتا چلا کہ عام بول چال کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام بات ہی نہیں کر رہے۔ان حالتوں کی بات کر رہے ہیں جن میں انسان نفس کا مغلوب ہوتا ہے اور ویسی باتیں اس وقت اگر کی جائیں جو دل میں خود بخو داٹھتی ہیں تو وہ لازماً فساد کا موجب ہوں گی