خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 861
خطبات طاہر جلد 17 861 خطبہ جمعہ 11 دسمبر 1998ء کے بدلہ اتارنے کی توفیق ہی نہیں تو بندوں کے معاملہ میں توفیق کچھ نہ کچھ تو ہوتی ہے مگر اللہ کے معاملہ میں تو کوئی توفیق ہی نہیں ہے آپ کیسے توفیق پائیں گے کہ اللہ کا بدلہ اتاریں۔تو یہ دوشاخہ معنی چلتا چلا جا رہا ہے آگے۔فَإِنْ لَمْ يَجِدُ فَلْيُثْنِ بِهِ، فَمَنْ أَثْنَى بِهِ فَقَدْ شَكَرَهُ 66 اب یہاں ایک محاورہ حضور اکرم صلی ا یہ تم نے استعمال فرمایا ہے جو عربی لغت میں اس طرح نہیں ملتا کہیں بھی۔تکی عَلَیہ کا مضمون تو ملتا ہے لیکن تکی بِهِ۔آفتی بو کا جو صلہ ہے ”ب“ کے ساتھ یہ آپ کو کسی لغت میں کہیں نظر نہیں آئے گا اور یہ بات واضح کر رہی ہے کہ حضرت اقدس رسول اللہ صلی یتیم کے ذہن میں عام معنوں سے ہٹ کر کچھ معانی ہیں اور یہی وہ پہلو ہے جو آج میں آپ کے سامنے خوب کھولنا چاہتا ہوں۔فَلْيَجْزِ بِهِ - جَزَى په کا مضمون تو ہر لغت میں آپ کو مل جائے گا۔کسی کو کسی چیز کی جزا دی جائے تو کہیں گے جزی پہ یہ عام مضمون ہے۔مگریشن پہ کہیں نظر نہیں آئے گا اور یہی وہ تکی یہ ہے جس کا معنی بہت وسیع ہے جس کے متعلق میں آج آپ کے سامنے کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔اگر اس کے پاس کچھ نہ ہو یا تو فیق نہ ہو توی فن پہ اگر میں بندوں کی بات پہلے شروع کرتا ہوں تو یہ نہیں فرمایا کہ اس کی تعریف کرو، اس کا کوئی ذکر نہیں ہے اس چیز کے ذریعہ اس کا شکر ادا کرو جو تمہیں عطا کی گئی ہے۔یہ مضمون عام مضمون سے بہت گہرا ہے۔یقنِ بِہ کا صرف یہ مطلب بنے گا اس چیز کے ذریعہ شکر عطا کرو جو تمہیں عطا کی گئی ہے۔اس چیز کے ذریعہ کیسے شکر ہوتا ہے اس کے بہت سے طریق ہیں جو اس حدیث میں اللہ کے تعلق میں تو سمجھ آ جاتے ہیں، بندے کے تعلق میں فوری طور پر سمجھ نہیں آ سکتے مگر غور کریں تو سمجھ آ جائے گی۔جو چیز تمہیں دی گئی ہے اس کو اگر لوگوں میں آگے بیان کروا گر چہ دینے والا شکریہ کا محتاج نہیں ہے اور دینے والے کا شکریہ کا احتیاج اس کو اس قابل ہی نہیں رہنے دیتا کہ اس کا احسان کرنے والوں میں شمار ہو سکے۔تو یہاں یہ نہیں فرمایا کہ اس کی ثنا کرو کیونکہ یہ تواللہ تعالیٰ نے ناپسند فرمایا ہے۔فرمایا اس چیز کو جو دیتا ہے اس کو آگے چلاؤ۔اب کسی بندہ کو کسی کی طرف سے کچھ ملتا ہے اگر وہ اس کو روک کے بیٹھ جائے تو یہ ثنا کا حق ادا نہیں کر رہا۔پا کے معنی میں ادا نہیں کر رہا۔اس چیز کو استعمال کر کے اس کا حق ادا کرو۔اب یہ استعمال بھی کئی طریق سے ہے۔ایک تو یہ کہ خود اپنے او پر استعمال کرو، اپنے گھر والوں پر استعمال کرو، اپنے عزیزوں پر استعمال کرو جو ثابت کر دے گا کہ