خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 862
خطبات طاہر جلد 17 862 خطبہ جمعہ 11 دسمبر 1998ء تمہیں وہ چیز پسند تھی۔اگر استعمال ہی نہ کرو اور چھپا لو یا الگ پھینک دو تو یہ شکر کا حق ادا کرنے والی بات نہیں ہے۔دوسرے لوگوں تک پہنچاؤ۔اس چیز کا فیض اسی طرح لوگوں تک پہنچاؤ جیسے تم تک کسی نے اس چیز کا فیض پہنچایا تھا تو یہ سارے معنی پہ سے نکلتے ہیں اور علی سے نہیں نکلتے جو عام طور پر شنا کا صلہ ہے کیونکہ یہ دونوں مضمون بیک وقت چل رہے ہیں۔اب میں صرف خدا کے تعلق میں صرف یہ مضمون بیان کرتا ہوں۔فَمَنْ أَثْنَى بِهِ فَقَدْ شَكَرَهُ جس نے خدا کی عطا کردہ چیزوں کے ذریعہ اللہ کا شکر ادا کیا یعنی ان سب چیزوں کو اس طرح بنی نوع انسان کے فائدے کے لئے استعمال کیا جس طرح اللہ نے اس کو عطا کی تھیں ان کو نہ چھپایا، نہ یہ ظاہر کیا کہ خدا نے خاص فضل مجھ پہ فرمایا ہے کیونکہ جب بھی اس بات کو چھپائے گا کوئی شخص تو ثنا کا حق جاتا رہے گا۔تو مراد یہ ہے کہ جو بھی تمہیں عطا ہوا ہے اسے بیان بھی کرو اور اس کے ذریعہ سے لوگوں کو دکھا دو کہ اس طرح شکر ہوا کرتا ہے۔یہ وہ مضمون ہے جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے اس کی بہت سی شاخیں ہیں مگر اتنا یاد رکھیں کہ شکر کی بحث چل رہی تھی یہاں آکر شکر کی تان ٹوٹی ہے۔فَقَد شَكَرَهُ یہ شنا کرے گا تو پھر شکر ادا ہوگا ورنہ شکر ادا نہیں ہوگا۔وَمَنْ كَتَبَهُ فَقَدْ كَفَرَهُ " (سنن ابی داؤد، كتاب الأدب، باب فى شكر المعروف ، حدیث نمبر : 4813) اور جوان احسانات کو چھپائے گا۔فَقَدْ كَفَرَہ اس نے ناشکری کی۔تو اللہ تعالیٰ کے احسانات کو بکثرت بیان کرنا، اللہ تعالیٰ کے احسانات کو استعمال کرنا، دوسرے بنی نوع انسان کے لئے احسان کے طور پر استعمال کر کے، یہ شکر ہے اور ان نعمتوں کو چھپا لینا کسی خوف سے، دُنیا کے ڈر سے یا اور کسی بنا پر تاکہ ان کے پاس یہ چیزیں اکٹھی ہونی شروع ہو جائیں یہ ساری ناشکری کی قسمیں ہیں۔پس اس مضمون سے یہ راہنمائی حاصل کرتے ہوئے میں اب قادیان کے جلسہ کے تعلق میں ان نومبائعین کے متعلق یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے جو یہ کہا تھا کہ ان سب نو مبائعین کو ہم دوبارہ جھونک رہے ہیں اسی راہ میں جس راہ سے ہمیں یہ عطا ہوئے تھے، یہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے عطا کئے تھے بہت سی باتوں کے پیش نظر جن کا ذکر میں ابھی کر چکا ہوں۔ہم پر جو مظالم ہوئے ظلم وستم ہوئے، ہماری جو ناشکری کی گئی ، ہم نے احسان پر احسان کئے اور اس کے مقابل پر ظلم پر ظلم دیکھے ان ساری