خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 860
خطبات طاہر جلد 17 860 خطبہ جمعہ 11 دسمبر 1998ء مندی کا جذبہ ہو، اگر انسان کے اندر احسان کو قبول کرنے اور اس پر خوش ہونے اور تھوڑے سے کو بہت زیادہ سمجھنے کا جذبہ ہو تب ہی دل کی گہرائی سے دعا اُٹھ سکتی ہے۔تو تمام دُنیا کے احمدیوں کے لئے اس میں بڑا گہر اسبق ہے۔اپنے روزمرہ کے معاملات کو آپس میں درست کریں اور احسان کا جو بدلہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ آپ بہترین رنگ میں ادا کریں وہ دعا کے ذریعہ ہے اور ایسی دعا کے ذریعہ جس سے بڑھ کر پھر دعا ممکن نہیں ہے لیکن ایک شرط ہے اس کے ساتھ وہ یہ ہے کہ اگر آپ اپنی طرف سے کچھ دے سکتے ہوں تو وہ دینے کے علاوہ یہ دعا دیں۔دو باتیں ہیں، دے کر انسان سمجھے کہ یہ کچھ بھی نہیں ہے اور پھر اللہ کی طرف معاملہ لوٹا دے کہ اے اللہ ! اس کو اتنا دے کہ جو میرے تصور میں بھی نہیں آسکتا یا اس کے تصور میں بھی نہیں آسکتا تو یہ ایک لامتناہی شکر کا سلسلہ ہے جو چلتا چلا جاتا ہے۔یہ وہ صراط مستقیم ہے شکر کی جس کا ذکر حضرت ابراہیم کے سلسلہ میں بیان فرمایا گیا ہے۔اگلی حدیث وہ ہے جو بہت گہری ہے اور مختلف معانی رکھتی ہے۔بندوں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے اور اللہ کے احسانات پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔جتنا میں نے اس پر غور کیا ہے اتنا ہی زیادہ میں اس کے مختلف معانی میں کھویا گیا ہوں اور مشکل محسوس کرتا ہوں کہ ان سب معانی کی طرف آپ کو متوجہ کر سکوں کیونکہ رسول اللہ الا السلام کے تھوڑے سے کلام میں بے انتہا معانی مضمر ہوا کرتے ہیں اور یہ وہ حدیث ہے جس کا تعلق بیک وقت انسانوں کے احسان سے بھی ہے اور اللہ کے احسانات سے بھی ہے۔حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی ا یہ تم نے فرمایا: جسے کوئی چیز عطا کی جائے۔(اب دیکھیں مجہول رکھا ہے اس کو ) مَنْ أُعْطِيَ عَطاء “ صاف پتا چل رہا ہے کہ اس میں دونوں امکانات کو مد نظر رکھا گیا ہے۔چیز بندے کی طرف سے عطا کی جائے یا اللہ کی طرف سے عطا کی جائے۔تو یہی چابی ہے اس بات کی کہ آگے جتنے مضامین چل رہے ہیں وہ بندوں اور خدا دونوں کی طرف منسوب ہوں گے۔جب اللہ کی طرف منسوب ہوں گے تو پھر اس کے معنی بہت زیادہ وسیع اور گہرے ہوتے چلے جائیں گے۔" جسے کوئی چیز عطا کی جائے تو اسے چاہئے کہ وہ اس کا بدلہ دے۔( ان معنوں میں ) أُعْطِيَ عَطَاءٍ فَوَجَدَ فَلْيَجْزِبِهِ “ اب یہاں ترجمہ کرنے والے نے یہ غلطی کی ہے کہ وجد کے مضمون کو آخر پہ رکھا ہے حالانکہ یہ فرمایا گیا: فَوَجَدَ فَلْيَجْزِ یہ اگر اسے توفیق ہو۔وجد کا یہ معنی ہے یہاں، اگر توفیق ہو تو اس کا بدلہ دے۔اب اللہ