خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 859 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 859

خطبات طاہر جلد 17 859 خطبہ جمعہ 11 دسمبر 1998ء عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ (رضی اللہ تعالیٰ عنہما )۔حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرت صل السلام نے فرمایا : جس پر کوئی احسان کیا گیا ہو اور وہ احسان کرنے والے کو کہے کہ اللہ تجھے اس کی جزائے خیر اور اس کا بہترین بدلہ دے تو اس نے ثنا کا حق ادا کر دیا۔“ (جامع الترمذی، ابواب البر والصلة، باب ماجاء في الثناء بالمعروف،حدیث نمبر : 2035) اب یہ وہ حدیث ہے جس کا تعلق محض بندوں کے احسان سے ہے کیونکہ خدا کو تو نہیں انسان کہا کرتا کہ جزاك الله احسن الجزاء۔اے اللہ تجھے اللہ جزا دے اس لئے اس حدیث کا کوئی اور معنی ممکن ہی نہیں ہے سوائے اس کے کہ بندوں کا معاملہ بندوں کے ساتھ ہو۔قَد أَبْلَغَ فِي القنَاءِ اس کا مطلب یہ ہے کہ حق ہی ادا نہیں کیا بلکہ بہت مبالغہ کیا شامیں۔مبالغہ ان معنوں میں کہ جہاں تک شنا ممکن تھی وہ اس نے کر دی اس لئے جب آپ کہتے ہیں جزاک اللہ خیراً کہ اللہ تجھے بہترین جزا دے، تو یہ کوئی معمولی بات نہیں۔بعض لوگ اپنی حماقت سے یہ سمجھتے ہیں کہ مقابل پہ دیا تو ہمیں کچھ بھی نہیں اور جزاك الله کہہ کے، بعض لوگ کہتے ہیں ٹرخا دیا۔بہت ہی بے وقوف ہیں یہ خیال کر لینے والے کیونکہ بندہ کیا دے سکتا ہے آخر۔آپ جتنا بھی اس کے لئے کچھ کریں وہ زیادہ سے زیادہ جو دے گا پھر بھی اپنے بندے کے احتیاج کے مطابق دے گا۔وہ خود محتاج ہے اس کا ایک محدود دائرہ ہے اس سے بڑھ کر وہ آپ کو کچھ عطا کر ہی نہیں سکتا۔تو وہ لوگ جو عطا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ایک پہلو سے بدلہ اتار بھی دیتے ہیں مگر جب بدلہ اتار دیا جائے تو دونوں کے درمیان جو محبت اور مودت کا رشتہ ہے وہ عملاً منقطع ہو جاتا ہے۔ایک انسان سمجھتا ہے میں نے اس کے لئے کچھ کیا تھا دوسرا کہتا ہے میں نے اس کے لئے کر دیا اور جب بھی کوئی وقت پڑے تو کہہ دیتے ہیں دیکھو میں نے تمہارا بدلہ اتار دیا تھا اور جتنا تم نے کیا تھا اس سے زیادہ دیا تھا تو بات وہیں ختم ہو گئی لیکن جزَاكَ اللهُ خَيْرًا کے اوپر رسول اللہ صلی شمالی ستم فرماتے ہیں: قد أبلغ في القناء اس سے بڑھ کر وہ اس کی ثنا اور کیا کر سکتا تھا کہ اپنے احسان کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ جب یہ جزا کی دعا دی جائے تو دل کی گہرائی سے دینی چاہئے اور اگر دل کی گہرائی سے یہ دعا اٹھے تو اس سے بہتر کسی احسان کا بدلہ نہیں اتارا جاسکتا۔کیوں؟ اس دعا کو پھر اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور دل کی گہرائی سے تب ہی اُٹھ سکتی ہے اگر انسان کے اندراحسان