خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 858 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 858

خطبات طاہر جلد 17 858 خطبہ جمعہ 11 دسمبر 1998ء تعدا داحمدیوں کی اس میں شامل ہوئی تھی۔اب کوئی بھی پاکستان سے وہاں نہیں جاسکا۔وہ غالباً چھ سات ہزار تھے جو پاکستان ہی سے وہاں پہنچے ہوئے تھے اس کے علاوہ سب دُنیا سے کئی ہزار، دوتین ہزار مہمان تشریف لائے ہوئے تھے جواب چند سو تھے صرف ، تو اگر ان کا حساب نکال لیں تو بلا شبہ یہ جلسہ ایک ریکارڈ جلسہ ہے۔ایسا ریکارڈ کہ میں تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اس شان کے ساتھ اللہ تعالیٰ اب ہمارے لئے نئے معیار مقرر فرمائے گا اور اس کے ساتھ میری توجہ اس طرف بھی منتقل ہوئی کہ پاکستان میں کبھی کوئی جلسہ ایسا نہیں ہوا جس میں دس ہزار نو مبائعین شامل ہوئے ہوں۔دس ہزار تو کیا ہزار ڈیڑھ ہزار سے زیادہ کا مجھے یاد نہیں کہ کبھی بھی پاکستان کے کسی جلسے میں اس کثرت سے نو مبائعین شامل ہوئے ہوں اور غیر احمدیوں کی تعداد بھی نسبتا معمولی ہوا کرتی تھی۔غیر مبائعین اور نو مبائعین کو ملا بھی لیں تو ربوہ کے جلسہ میں دو اڑھائی ہزار سے زیادہ ان کی تعداد نہیں ہوا کرتی تھی ، زیادہ سے زیادہ اتنی تھی۔تو اب قادیان کا جلسہ دیکھیں تو کتنا آگے بڑھ گیا ہے اللہ کے فضل کے ساتھ ربوہ کے مقابل پر اس کا بڑھنا ایک خوش خبری ہے کہ جس ربوہ کے یہ پیچھے پڑے ہوئے ہیں اللہ ایسے ہزارر بوے اور پیدا کر دے گا اور ربوہ کی تمہیں باتیں یاد ہیں اس وقت تم تو کچھ بھی نہیں تھے جب ربوہ پہ تمہیں قبضہ تھا اس وقت تو تمہاری کوئی حیثیت ابھی نہیں تھی۔اب دیکھو کہ اللہ تعالیٰ ہندوستان میں کس کثرت کے ساتھ تمہارے لئے نئے انصار پیدا کر رہا ہے جو قانتا اللہ نیکی کی راہوں پہ آگے بڑھیں گے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ جو خدا کا وعدہ تھا اور جو سلوک فرمایا گیا وہی سلوک ہے اب جو انشاء اللہ تعالیٰ ہمارے مقدر میں آچکا ہے اور دنیا کا کوئی دشمن بھی اسے ہم سے کھینچ کے چھین نہیں سکتا۔اب ان لوگوں کی پھبتیاں اور تعلیاں کیا حیثیت رکھتی ہیں۔ابھی تک بعضوں کے خط آتے ہیں کہ بڑا افسوس ہو رہا ہے کہ پتا نہیں کیا ہو گا وہاں۔ان کو یہ نہیں پتا کہ خدا کیا کر رہا ہے، وہ تو دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کس طرح مقابلے کر رہی ہے ان کے اور کس طرح ان کو نامراد کر رہی ہے کوئی بھی ان کی حیثیت باقی نہیں رہی۔آگ ہے جو سینوں میں لگی ہوئی ہے اس کے سوا اُن کے پاس اور کچھ نہیں رہا۔اب شکر کے تعلق میں ہی میں بعض احادیث آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔اور انہی احادیث سے سبق لیتے ہوئے اب ہندوستان کے نواحمدیوں کے شکر کا طریقہ آپ کو بتا تا ہوں۔سب سے پہلی حدیث تو بندوں کے احسان سے تعلق رکھنے والی ہے۔