خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 848
خطبات طاہر جلد 17 848 خطبہ جمعہ 4 دسمبر 1998ء حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت کا یہ ایک خاصہ تھا آپ کو کبھی بھی کوئی تکلیف نہیں ہوئی کسی اور کے پاس کتنا ہے۔جتنا خدا نے دیاوہ بھی خدا کی راہ میں قربان کر دیا کرتے تھے اور یہ بھی ایک شکر کی علامت ہے کہ جو کچھ دیا اس کو واپس لوٹانے کی کوشش کی۔سب تو واپس نہیں لوٹایا جاسکتا مگر اس کی راہ میں خرچ کیا اور اپنے اوپر قناعت کی لیکن یہ لازم نہیں ہے کہ اپنے اوپر اس رنگ میں ہ شخص قناعت کر سکے ، مزاج الگ الگ ہیں اور یہ جو قناعت کا مضمون ہے خدا تعالیٰ کی خاطر اس کا دیا ہوا کم خرچ کرنا اس میں تصنع نہیں ہونا چاہئے۔اگر دل کی منشاء اور مرضی کے مطابق اس کے خدا کی راہ میں ملائم ہونے کے نتیجے میں آپ اپنے اوپر کم خرچ کرنے کی عادت ڈالیں تو یہ بہت اچھی بات ہے مگر اگر خدا آپ کو توفیق دے اور اللہ چاہے کہ آپ اس کے مطابق زیادہ بھی خرچ کریں تو یہ بھی اللہ کے منشاء کے مطابق ہے اور اس کے متعلق ایک آنحضرت صلی یہ یمن کی تصدیق موجود ہے جس کا میں اگلی احادیث جو چنی ہیں ان میں ذکر کروں گا۔سورسول صلی اینم نے پہلے تو یہ فرمایا کہ: جو تھوڑے پر شکر نہیں کرتا وہ زیادہ پر بھی شکر نہیں کرے گا۔(اور ساتھ ہی اس کا یہ نتیجہ نکالا : ) جولوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا۔“ اس مضمون کا کیا تعلق ہوا؟ اس لئے کہ لوگوں سے تھوڑا ہی ملا کرتا ہے اور اللہ سے بے انتہا ملتا ہے تو جو لوگوں کے تھوڑے پر راضی نہ ہو وہ خدا کے بے انتہا پر بھی راضی نہیں ہوتا۔اس کے پیٹ کا جہنم کوئی دنیا کی دولت نہیں بھر سکتی۔تو کتنی چھوٹی سی بات سے کتنی بڑی بات بنادی، کتنی بڑی بات تک رسول اللہ سلیم نے پہنچا دیا۔تھوڑے پر شکر کی عادت ڈالو کیونکہ اس کا تعلق اللہ کے شکر کا حق ادا کرنے سے ہے۔تم تھوڑے کا شکر ادا کرو گے تو اللہ کی نعمتوں کا بھی حق ادا کرو گے۔پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر کرنا بھی تو شکر ہے۔التَّحَدُّثُ بِنِعْمَةِ اللهِ شُكُرُ، وَتَرْكُهَا كفر اور جو اللہ کی نعمتیں اس پر اتری ہیں ان کا کثرت سے ذکر خیر کرتا ہے کہ خدا نے مجھے یہ نعمتیں بھی دی ہیں۔یہ بھی اس کا شکر ہے۔اب اس میں بھی بہت احتیاط لازم ہے۔بعض لوگ یہ ذکر کرتے ہیں کہ اللہ نے مجھے یہ بھی دیا اوروہ بھی دیا غریبوں میں بیٹھ کر ذکر کر رہے ہوتے ہیں اور ان کو اس میں سے کچھ بھی نہیں دے رہے ہوتے۔سب آپ سنبھالا ہوا ہوتا ہے۔تو جو اللہ کی نعمتوں کو روک کر بیٹھ جائے وہ شکر