خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 849 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 849

خطبات طاہر جلد 17 849 خطبہ جمعہ 4 دسمبر 1998ء ادا نہیں کر سکتا۔اس کا تحدیث نعمت شکر نہیں ہے بلکہ منہ چڑانے والی بات ہے۔اللہ نے تو اس پر احسان کیا اس کو بے انتہا دیا یا جتنا بھی دیاوہ اس کو آگے جاری کرے گا تو یہ شکر ہوگا۔تو تحدیث نعمت سے مراد یہ نہیں ہے کہ نعمت کو زبانی بیان کرے۔تحدیث نعمت سے اصل مراد یہ ہے کہ نعمت کو زبان سے بھی بیان کرے اور اسے آگے لوگوں میں جاری کر کے ان کو دکھا تو دے کہ مجھے کیا ملا ہے،صرف زبانی قصہ نہ کرے۔تو ایسے جو زبانی قصہ کرنے والے ہیں وہ تو تعلی والے لوگ ہیں وہ لوگوں میں بیٹھ کر اپنی دولتوں کی فخریہ باتیں بیان کرتے ہیں اور غربا کو اور بھی زیادہ متنفر کر دیتے ہیں۔پس حضور اکرم سنی یا یہ تم جوفر ماتے ہیں کہ نعمتوں کا شکر ادا کرو تو یہ مراد ہے اور ان کا ذکر چھوڑ دینا کفرانِ نعمت ہے۔اب ذکر چھوڑ دینا یہ بھی بہت اہم بات ہے۔بعض لوگ غریبوں سے بچنے کی خاطر ذکر چھوڑتے ہیں۔یہ مراد ہے رسول اللہ صلی ایم کی۔مطالبوں سے بچنے کی خاطر ذکر چھوڑتے ہیں جماعت کے چندہ لینے والوں سے بچنے کی خاطر ذکر چھوڑتے ہیں۔ان کے پاس جاؤ کہ جی ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں۔نظر آ ہی رہا ہے آپ لوگوں کو کہ بہت کچھ ہے، ہے کچھ بھی نہیں بیچ میں سے اور واقعہ کچھ نہیں ہوتا کیونکہ اللہ کی نظر میں ان کے پاس واقعہ کچھ نہیں ہوتا ، وہ ننگے فاقہ کش فقیر ہی رہتے ہیں اسی حال میں دُنیا میں رہتے ہیں اسی حال میں انہوں نے اگلی دُنیا میں پہنچ جانا ہے تو فرمایا اس ذکر کا چھوڑ دینا کفرانِ نعمت ہے۔اس پہلو سے ذکر کرو کہ اس ذکر کے ساتھ ساتھ اس نعمت کا لطف بھی دُنیا میں بانٹو اور اس خوف سے ذکر کرنا بند نہ کرو کہ خدا کی راہ میں مطالبہ کرنے والے خواہ وہ فقیر ہوں ، غریب ہوں یا جماعت ہو یعنی خدا کی جماعت ہو، ان سے اپنی نعمتوں کو چھپاؤ نہیں کہ کہیں وہ اس کی نسبت سے تم سے زیادہ مانگنا نہ شروع کر دیں۔یہ اگر کسی کو نصیب ہو جائے تو یہ ایک رحمت ہے جس کے نتیجے میں ساری جماعت بجڑ جائے گی کیونکہ جوامیر غریبوں کو دے رہے ہوں ، ذکر خیر کر رہے ہوں اللہ کا ، اس کے نتیجے میں اس ذکر خیر کے ساتھ ساتھ اپنی نعمتوں میں غیروں کو شامل کر رہے ہوں اور اپنی جماعت کو جو خدا کی جماعت ہے اللہ کی خاطر یہ بیان کر کے کہ خدا نے ہمیں یہ بھی دیا ہے ہم یہ بھی پیش کرتے ہیں، وہ بھی دیا ہے ہم وہ بھی پیش کرتے ہیں ایسا کریں تو یہ شکر جو ہے رحمت ہے اور اس کے نتیجے میں رسول اللہ صل للہ سلم نے فرمایا کہ : 66 جماعت رحمت ہے۔“