خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 847
خطبات طاہر جلد 17 847 خطبہ جمعہ 4 دسمبر 1998ء شکر گزار بندہ ہو وہ اگر دوسروں کے اوپر خدا کے زیادہ فضل دیکھے تو اس سے اس کا دل گھبرا تا نہیں ، وہ جانتا ہے کہ مالک خالق وہی ہے اُس نے جس کو چاہا زیادہ دے دیا جس کو چاہا کم دیا اور وہ اپنے تھوڑے پر بھی اسی طرح راضی ہوتا ہے مگر جماعت کی طرف سے بعض خطوط مجھے ایسے ملتے ہیں جن سے مجھے یہ توجہ پیدا ہوئی اسی حدیث کے دوران ہی کہ میں ان کا جواب بھی اسی خطبہ میں دے دوں۔بظاہر بات بہت اچھی لکھی ہوتی ہے کہ جماعت کو نصیحت کریں کہ شادیوں پر فضول خرچیاں نہ کیا کریں۔بالکل ٹھیک ہے شادیوں پر فضول خرچی نہیں کرنی چاہئے مگر وہ یہ چاہتے ہیں کہ جس کو خدا نے توفیق دی ہو زیادہ خرچ کی وہ اتنا ہی کرے جیسے خدا نے کسی کو توفیق دی ہی نہ ہو۔وہ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ جیسے کوئی غریب آدمی جس کے پاس خرچ کرنے کے لئے کچھ بھی نہ ہوا تناہی امیر خرچ کریں تا کہ غریبوں کے دل میں جلن پیدا نہ ہو۔اب یہ جلن کہہ کر انہوں نے اپنی بیماری کے اوپر انگلی رکھ دی۔ان کے دل میں قناعت نہیں ہے اور اس بات پر ان کو اتنا غصہ آتا ہے کہ امیر خرچ کر رہے ہیں، میں اتنا خرچ نہیں کر سکتا کہ اس کے نتیجہ میں اس بات پہ ہر وقت دل میں معلوم ہوتا ہے کڑھتے ہی رہتے ہیں اور میرے ذریعہ ساری جماعت کو یہ نصیحت چاہتے ہیں کہ تمہیں خدا نے زیادہ بھی دیا ہو تو چھپا کے رکھنا، غریبوں پر خرچ نہ کرنا اور نہ خوشی کے موقع پر کھلا خرچ کرنا۔اس سلسلہ میں میں آپ کو ایک نصیحت کرتا ہوں کہ مسلمان کی خوشی میں غریب شامل ہوتے ہیں اور آنحضرت مصلایا کہ تم نے ایسی دعوتوں پر لعنت ڈالی ہے جن دعوتوں میں غریب شامل نہ ہوں۔تو ہمارے امیر اگر شادی کے موقع پر ایسے خرچ نہ کریں جس میں کثرت سے غریبوں کو بلا یا ہو تو نقصان کس کا ہے؟ یہ تو غریبوں کا نقصان ہے۔اس لئے کسی کی جلن کا نقصان کسی اور کو پہنچ جائے یہ تو نہیں میں کہوں گا۔اگر یہ شرط ہو کہ نسبتاً سادگی ہو جیسا کہ جماعت احمدیہ کا طریق ہے اور اس کے ساتھ کثرت سے غرباء بلائے گئے ہوں تو یہ خرچ تو بہت مبارک خرچ ہے یہ شکر کا حق ادا کرنا ہے کیونکہ جب شکر کا حق ادا کرنا ہے تو اس کو لوگوں کے سامنے بیان بھی تو کرنا ہے۔اور یہ مضمون قرآن کریم میں بھی بیان ہے۔رسول اللہ صلہ ہی ہم نے بھی آگے جو احادیث آئیں گی ان میں بیان فرمایا ہے تو شکر تھوڑے پر شکر ہو تو جلن پیدا نہیں ہوتی۔یہ ہے بنیادی بات جس کو میں اب سمجھانا چاہتا ہوں۔قناعت اختیار کریں ، آپ کی بلا سے کسی اور کے پاس کیا ہو اللہ نے آپ کو جو دیا ہے اس پر راضی ہوں۔