خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 846 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 846

خطبات طاہر جلد 17 846 خطبہ جمعہ 4 دسمبر 1998ء 66 مَنْ لَمْ يَشْكُرِ الْقَلِيلَ لَمْ يَشْكُرِ الْكَثِيرَ “ کہ جس نے تھوڑے کا شکر نہیں کیا اس نے کثیر کا بھی شکر نہیں کیا۔اب یہ ایک کلمہ میں دیکھیں انسانی فطرت کی کیسی گہرائی بیان فرما دی ہے۔کسی پر کوئی تھوڑا سا احسان کر دے اگر وہ اس کا بھی شکر نہیں کرتا تو پھر وہ بڑے احسانات کا بھی شکریہ نہیں کر سکتا۔احسان تو احسان ہوا کرتا ہے جو احسان مند انسان ہو احسان کو قبول کرنے والا انسان ہو ا سکو تو رستہ بھی دکھا دو گے تو وہ شکر ادا کرے گا اور اگر کچھ دے دو گے اپنی طرف سے جو اس نے مانگا ہو تو اس پر تو وہ بہت ہی شکر ادا کرے گا خواہ تھوڑا ہی ہو اور اگر مانگنے پر دو گے تو اس پر بھی شکر ادا کرے گا اور تھوڑا بھی ہو تب بھی شکر ادا کرے گا۔اس مضمون کا تعلق امارت یا غربت سے نہیں ہے۔ہر انسان سے یہ مضمون برابر کا تعلق رکھتا ہے۔جن لوگوں کی فطرت میں شکر نہ ہو ان کو بعض دفعہ زیادہ دے دیں تو شکر کرتے ہیں بظا ہر لیکن ان کی پہچان یہ ہے کہ شکر ہے کہ نہیں کہ تھوڑا دے کے دیکھو پھر وہ شکر کرتے ہیں کہ نہیں۔میں نے بسا اوقات بعض فقیروں کو بھی دیکھا ہے ان کو تھوڑا دو تو وہ پھینک دیا کرتے ہیں۔آج اگر پاکستان میں کسی فقیر کو پیسہ دو تو اسے یوں لگے گا جیسے میرے منہ پر جوتی ماری ہے کسی نے۔وہ پیسہ اٹھا کے دور پھینک دے گا کہ جاؤ جاؤ یہاں سے آج کل تو روپے کی قیمت بھی کوئی نہیں رہی ، ایک روپیہ بھی دو تب بھی فقیر نخرے کرتے ہیں اور اٹھا کے پھینک دیتے ہیں۔تو شکر کی پہچان تھوڑے سے ہے اس لئے حضور اکرم سی پیہم نے دیکھو کتنی گہری بات بیان فرمائی ہے۔شکر کا مضمون جب بیان ہو رہا ہے تو آنحضور صلی یہ ہی سے تو ہم نے سیکھنا ہے کہ شکر کیا ہوتا ہے۔فرمایا جو تھوڑے پر شکر نہیں کرتا وہ زیادہ پر شکر نہیں کرے گا کیونکہ شکر کی پہچان تھوڑے پر ہے۔اس ضمن میں مجھے یہ خیال آیا ہے اگر چہ ذرا مضمون سے کچھ ہٹنا پڑے گا مگر چونکہ بعض لوگ ایسی باتیں لکھتے رہتے ہیں اس لئے ان کو سمجھانے کے لئے ضروری ہے کہ تھوڑے پر شکر اور قناعت اصل میں ایک ہی چیز کے دو نام ہیں، یا ملتے جلتے مضمون کے دو نام ہیں۔کسی کے دل میں قناعت نہ ہو تو وہ تھوڑے پر شکر کر ہی نہیں سکتا اور اگر دل میں قناعت ہو تو پھر اللہ تعالیٰ تھوڑے پر بھی شکر ڈال دیتا ہے۔ایک روٹی بھی ملتی ہے تو شکر کر کے کھاتا ہے سوکھا بھی ملے تو پھر بھی وہ اللہ کا شکر ادا کر رہا ہوتا ہے اور قناعت ہو تو پھر امیروں کے زیادہ پر دل جلتا بھی نہیں ہے۔شکر کا ایک یہ بھی عجیب لطف ہے کہ جو